کوئٹہ:پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن بلوچستان اسمبلی زرک مندوخیل نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن)اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان وزارتِ اعلی سمیت دیگر حکومتی معاملات پر ڈھائی، ڈھائی سال کا فارمولا طے ہوا تھا تاہم موجودہ حالات میں وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں اس لیے میری ذاتی رائے ہے کہ انہیں ہی اپنی ذمہ داریاں جاری رکھنی چاہیے۔انٹر ویو میں گفتگو کرتے ہوئے زرک مندوخیل نے کہاکہ بلوچستان میں اس وقت حالات خراب ہیں اور اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، ایسے حالات میں حکومت کی تبدیلی کے بجائے صوبے میں جاری حکومتی معاملات کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھانا ضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن)اور پاکستان پیپلز پارٹی مرکز اور بلوچستان میں اتحادی جماعتیں ہیں، دونوں جماعتوں کے درمیان وزارتوں یا دیگر معاملات پر کوئی بڑا اختلاف نہیں، نہ ہی ایک دوسرے پر غیر ضروری دبا ﺅڈالا جا رہا ہے۔زرک مندوخیل کے مطابق صوبائی حکومت کے گورننس کے معاملات میں بھی وزیراعلی میر سرفراز بگٹی بہتری لانے کی کوشش کررہے ہیں، جبکہ تمام وزرا ءکو بھی اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے واضح ہدایات دی گئی ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف بھی بلوچستان میں حالات بہتر بنانے کے لیے کوششیں کررہے ہیں، اگر صوبے کے حالات معمول پر آتے ہیں تو نوجوانوں کے لیے نئی صنعتیں قائم کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے منصوبوں پر بھی تیزی سے کام شروع کیا جا سکتا ہے۔نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر زرک مندوخیل نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر ملک میں نئے صوبے بنانے کے حق میں ہیں،جتنے زیادہ انتظامی یونٹس ہوں گے، اتنا ہی انتظامی امور چلانا آسان ہوگا۔نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر سیاسی بحث اپنی جگہ، تاہم انتظامی بنیادوں پر علاقوں کو بہتر طریقے سے منظم کرنے سے عوام کو سرکاری سہولیات کی فراہمی اور حکومتی نظام تک رسائی میں آسانی پیدا کی جا سکتی ہے۔






