گورنر راج پر مشاورت ہوئی، پی ٹی آئی بغیر پلان لانگ مارچ کر رہی ہے، فیصل کریم کنڈی

گورنر راج پر مشاورت ہوئی، پی ٹی آئی بغیر پلان لانگ مارچ کر رہی ہے، فیصل کریم کنڈی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے مشاورت ہوئی ہے، تاہم فی الحال اس کا وقت نہیں آیا۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے اسلام آباد لانگ مارچ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی بغیر کسی واضح منصوبے کے مارچ کی تیاری کر رہی ہے اور اس کے ارکان اسلام آباد کے کیفے میں بیٹھ کر گپیں مار رہے ہیں۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ آئین میں گورنر راج کی گنجائش موجود ہے، تاہم جب اس کی ضرورت یا وقت آیا تو اس بارے میں بات ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا میں گزشتہ 2 برس کے دوران کئی مرتبہ گورنر راج، کابینہ اور گورنرز تبدیل کیے جانے کی خبریں سامنے آچکی ہیں، اس لیے جب عملی طور پر کوئی معاملہ ہوگا تو اسی وقت بات کی جائے گی۔
گورنر نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال، دہشتگردی اور دیگر مسائل سب کے سامنے ہیں، ایسے میں حکومت کو صوبے کے معاملات پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کے بقول پی ٹی آئی اسلام آباد میں احتجاج اور بدامنی کی باتیں کر رہی ہے، جبکہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی ذمہ داری بھی اسی حکومت پر ہے۔
انہوں نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی تیاریوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر پارٹی لاکھوں افراد کو اسلام آباد لانے کا دعویٰ کر رہی ہے تو اس کی تیاری بھی نظر آنی چاہیے۔ ان کے مطابق پارٹی کے بعض ارکان گرفتاری دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور ممکن ہے آج یا کل لانگ مارچ سے متعلق کوئی اعلان سامنے آجائے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پہلے پی ٹی آئی کی جانب سے اپنے بانی کو رہا کرانے اور مختلف اقدامات کے بڑے دعوے کیے جاتے تھے، تاہم اب مطالبہ ان کی رہائی اور اسپتال منتقل کرنے تک محدود ہوگیا ہے۔ ان کے مطابق عدالت میں مقدمے سے متعلق رپورٹ اور تفتیش موجود ہے اور سزا دینے یا نہ دینے کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے صوبائی کابینہ سے منظور کیے گئے مجوزہ پولیس ایکٹ پر بھی سخت اعتراض کیا اور کہا کہ اگر قانون میں کوئی غیر آئینی شق ہوئی تو وہ اس کی منظوری نہیں دیں گے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت پولیس کو اپنے تابع کرکے اسے ’ٹائیگر فورس‘ بنانا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق آئی جی سے ڈی ایس پی تک پولیس افسران کی تعیناتی اور اختیارات حکومت کے براہ راست کنٹرول میں دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
گورنر نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے رہی ہے، لیکن اس کے باوجود اہلکاروں کو مناسب مراعات اور سہولیات نہیں ملتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو پولیس اہلکاروں اور ان کے بچوں کی فلاح و بہبود پر توجہ دینی چاہیے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پولیس کو سیاسی کنٹرول میں لینے کی کوشش قابل قبول نہیں ہوگی اور اگر ایسا کوئی قانون ان کے پاس منظوری کے لیے آیا تو وہ اس کا جائزہ لیں گے۔ ان کے بقول اگر قانون غلط یا غیر آئینی ہوا تو وہ اس کے سامنے ’دیوار‘ بنیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے