وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا مؤقف تھا کہ دہشتگردی کے خلاف اسٹریٹجک پروپوزل پر اتفاق کیا جائے، جبکہ وفاق کا حق ہے کہ وہ پالیسی بنائے اور صوبائی حکومتیں اس کے ساتھ کھڑی ہوں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہاکہ دہشتگردی میں افغانستان اور ہمارا دشمن بھارت ملوث ہے۔ پاکستان میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں، تمام واقعات اور حملے کرنے والے لوگ افغانستان سے ٹریننگ لے کر آئے تھے۔
انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کا مطالبہ تھا کہ دہشتگردی کے معاملے پر ان کے مؤقف سے اتفاق کیا جائےگا تو پالیسی پر عمل ہوگا۔ یہ دہشتگردی کی بیرونی جارحیت ہے جو ملک پر مسلط ہے۔
رانا ثنااللہ نے کہاکہ اگر مذاکرات جاری تھے تو پی ٹی آئی نے اگلے دن لانگ مارچ کا آغاز کیوں کیا؟ تحریک انصاف کی طرف سے تین دن غور کرنے کی کوئی بات نہیں کی گئی۔ اگر پی ٹی آئی صرف وقت چاہتی تو بالکل انہیں وقت دے دیا جاتا۔
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے سہیل آفریدی اور محمود اچکزئی سے بات کی، اس کے بعد انہوں نے انکار کردیا۔
وزیراعظم کے مشیر نے کہاکہ وفاق کا حق ہے کہ کوئی جنگ مسلط ہو تو فیصلہ کرے، باقی نے اس کے ساتھ کھڑے ہونا ہے۔ ہم نے تجویز دی کہ وزیراعظم سیاسی کمیٹی بنائیں گے تو چھوٹے موٹے معاملات حل ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے پی ٹی آئی سے کہا تھا کہ ذاتی معالج عدالتی اجازت کے ذریعے ہوگا۔




