وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا ہے کہ حکومت عوام کو معاشی راحت فراہم کرنے کے لیے پیٹرول سبسڈی اسکیم کو ضرورت پڑنے پر اگلے 10 ماہ تک جاری رکھے گی۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت عوامی مشکلات سے بخوبی آگاہ ہے اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا تمام تر فائدہ بلا تاخیر صارفین تک منتقل کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے مستحق گاڑیوں اور موٹر سائیکل مالکان کے لیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف کی اسکیم شروع کی ہے، جس کے تحت اب تک 6 ملین سے زائد شہری رجسٹریشن کروا چکے ہیں۔
علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 25 ملین سے زیادہ ایسی موٹر سائیکلیں موجود ہیں جو تقریباً 20 سال پرانی ہیں، لہٰذا روزمرہ نقل و حرکت کے لیے ان پر انحصار کرنے والے محنت کشوں اور شہریوں کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ حکومت اس پیٹرول سبسڈی اسکیم پر ہر ماہ تقریباً 35 ارب سے 40 ارب روپے خرچ کر رہی ہے اور اگر حالات کا تقاضا ہوا تو یہ ریلیف جنگ کے خاتمے تک بھی جاری رکھا جائے گا۔
وفاقی وزیرِ پیٹرولیم نے ملک بھر کے پیٹرول پمپ مالکان کا بھی بالخصوص شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے بغیر کسی اضافی فیس یا چارجز کے سبسڈی کا فائدہ عام صارفین تک پہنچانے میں بھرپور اور فعال کردار ادا کیا۔
حکومتی اقدامات کے پس منظر میں اس سبسڈی اسکیم کا مقصد بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دور میں عام بالخصوص موٹر سائیکل سوار شہریوں کے مالی بوجھ کو کم کرنا ہے۔





