گندم کی درآمد سے متعلق اسٹیئرنگ کمیٹی نے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان یعنی ٹی سی پی کو ایک لاکھ 85 ہزار میٹرک ٹن گندم کی خریداری کے لیے موصول ہونے والی کم ترین بولی یا بولیوں کو قبول کرنے کا عمل آگے بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت فوڈ ایئر 27-2026 کے لیے گندم کی درآمد سے متعلق اسٹیئرنگ کمیٹی کے 7ویں اجلاس میں گندم کی درآمد کے انتظامات اور پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سندھ کی گندم کی ضرورت پوری کرنے کے لیے باقی ماندہ ایک لاکھ 85 ہزار میٹرک ٹن گندم کی درآمد کے معاملے پر غور کیا گیا۔ کمیٹی نے ٹی سی پی کو ہدایت کی کہ باقی مقدار کی خریداری کے لیے موصول ہونے والی کم ترین بولی یا بولیوں کو قبول کرنے کا عمل آگے بڑھایا جائے۔ اسحاق ڈار نے پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ گندم کی درآمد کے عمل میں تاخیر سے بچنے کے لیے مطلوبہ ادائیگیاں فوری طور پر مکمل کریں اور ٹی سی پی کے ساتھ سہ فریقی معاہدے بھی جلد طے کریں۔ اس موقع پر اسحاق ڈار نے کہا کہ گندم کی درآمد کا مقصد ملک میں گندم کی وافر فراہمی یقینی بنانا اور اسے مناسب نرخوں پر دستیاب رکھنا ہے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔






