کوئٹہ :وزیراعلیٰ بلوچستان کا مائنز اینڈ منرلز اور محکمہ جنگلات کے امور پر اپوزیشن کو بریفنگ دینے کا اعلان،رکن اسمبلی سردار عبدالرحمن کھیتران کا ڈاکٹر حکیم لہڑی کے جسد خاکی کو کالعدم تنظیم کے جھنڈے میں لپیٹنے پر مذمت کا اظہار ،جمعہ کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ ڈاکٹر حکیم لہڑی ایک دانشور اور ادارے کی حیثیت رکھتے تھے، تاہم ان کی وفات کے بعد ان کی میت کو دہشت گرد تنظیم کے پرچم میں لپیٹا گیا، جس پر انہیں حیرت ہوئی۔انہوں نے کہا کہ دہشت گرد بلوچ عوام کے بھی دشمن ہیں اور پلوں کو دھماکوں سے اڑانے کا نقصان صوبے کے عوام کو ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ ڈاکٹر حکیم لہڑی سے ہمیشہ سیکھتے رہے لیکن ان کے جسد خاکی کو کالعدم تنظیم کے جھنڈے میں لپیٹنے پر وہ ان کے جنازے میں شریک نہیں اور نہ ہی ان کی فاتحہ پر جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ سابق کورکمانڈر بلوچستان نے صوبے کی خدمت کی امید ہے نئے آنے والے کور کمانڈر بھی سابقہ کور کمانڈر کی روش اختیار کریں گے ۔ اجلاس میں قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری اور پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے چیئر مین اصغر علی ترین نے مدارس بل کا معاملہ ایوان میں اٹھاتے ہوئے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم میں ہم سے مدارس کی رجسٹریشن کا وعدہ کیا گیا پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی قیادت بلوچستان سے اس وعدے پر عملدآمد کا آغاز کریں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے رجسٹریشن کے بجائے مدارس کو سیل کیا ہے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر صوبائی وزیر میر صادق عمرانی نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ جمہوری اداروں ، وفاق اور عسکری قیادت کی مضبوطی کے اقدامات اور اپنے وعدے پورے کیے ہیں اپوزیشن جماعتیں اپنے بل کا ڈرافٹ دیں ہم اسے اپنی قیادت کو ارسال کر کے ان کی ہدایات کے مطابق عملدآمد کریں گے ۔ جمعیت علماءاسلام کے فضل قادر مندوخیل نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال مخدوش ہے اس پر ان کیمرہ اجلاس بلا کر کے وجوہات اور اداروں کے اقدامات سے آگاہ کیاجائے ۔نیشنل پارٹی کے رکن ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے گوادر میں زمینوں کے مالکانہ حقوق کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہاں متعدد علاقے ایسے ہیں جہاں کے رہائشیوں کے پاس اپنی زمینوں کے مالکانہ حقوق نہیں ہیں۔ کوئٹہ کے علاقے مری آباد میں بھی ایسی ہی صورتحال ہے انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ متعلقہ کیس ممبر بورڈ آف ریونیو (ایم بی آر) کو بھیجا جائے تاکہ متعلقہ محکمہ میرٹ پر فیصلہ کرسکے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بلوچستان کے لوگوں کی زمینیں محکمہ جنگلات کو کیوں الاٹ کی جارہی ہیں کیا وہاں رئیئر ارتھ میٹلز ہیں ؟ جس پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ جنگلات کی زمینیں آج سے نہیں بلکہ ایک عرصے سے محکمہ جنگلات کو الاٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ جنگلات کی زمین ہے اور اس حوالے سے وجوہات پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔حکومت 78سال بعد زمینوں کا ریکارڈ ڈیجٹلائز کر رہی ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ اس معاملے پر مکمل بریفنگ دینے کے لیے تیار ہیں اور اس مقصد کے لیے آئندہ ہفتے اجلاس رکھا جائے گا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ مائنز اینڈ منرلز اور محکمہ جنگلات کے معاملات پر اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلیں گے اور ہر معاملے میں اپوزیشن کو اعتماد میں لیا جائے گا۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وہ ہمیشہ اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلتے ہیں اور جب تک وہ ایوان میں موجود ہیں، گالم گلوچ نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ میرے بار بار معافی مانگنے پر اعتراض کرنے والوں سے کہتا ہوں کہ ہم غلطیاں کریں گے اور معافی بھی مانگیں گے ہم ابلیس نہیں کہ یو ٹرن نہیں لے سکتے جہاں غلطی ہو گی یا کسی رکن اسمبلی کی دل آزاری ہوگی اس پر معافی مانگیں گے جب اللہ نے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے تو ہم بھی اپنی غلطیاں سدھاریں گے ۔ انہوں نے جناح پیپلز ٹرین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ عوام کا اثاثہ ہے اور اس کی حفاظت کرنا عوام کی ذمہ داری ہے۔اگر اس کے شیشے توڑے جائیں گے اور نقصان پہنچایا جائے تو حکومت پہلے وارننگ دے گی اس کے بعد کاروائی کریں گے ۔بعدازاں بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 12 اکتوبر سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔






