پشاور:خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے معاملے پر آج اعلیٰ سطح کے اجلاس کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور اعلی عسکری حکام کی شرکت متوقع ہے۔ اجلاس میں قومی سلامتی کے اداروں کی رپورٹس کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ خیبر پختونخوا کے حوالے سے کل حتمی فیصلہ بھی کیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ سابق فاٹا کے ضم شدہ اضلاع سمیت 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تجویز ہے،صوبے میں اہم اختیارات وفاق کے استعمال کرنے کی بھی تجویز ہے۔ ذرائع کے مطابق آرٹیکل 232 سے 234 تک غوروخوض کے بعد اہم فیصلوں کی منظوری کا امکان ہے۔ دریں اثناءگورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پی ٹی آئی والے ذرا صوابی کی طرف منہ کرکے تو دکھائیں پتا لگ جائے گا، جب ان کا منہ صوابی کی طرف ہوتا ہے تو یوٹرن لے کر دوسرے شہر چلے جاتے ہیں، یہ نہیں آئیں گے، صوابی پار کرکے دکھائیں۔گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں سے صوبے میں سرکس دیکھنے کو مل رہا ہے، ہمارا صوبہ جل رہا ہے، صوبائی حکومت کی ٹیم کہیں بھی نظر نہیں آ رہی، نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہم نے کیا کیا۔گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ پولیس فورس میں 17000 سے زیادہ اسامیاں خالی ہیں، پولیس کی ڈیمانڈ 42 ارب روپے تھی، ان کو ایک ارب 20 کروڑ روپے دیے گئے، ضم اضلاع میں 7 پولیس اسٹیشن اب تک نہیں بنے، یہی لوگ دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ آج میری فوج اور فورسز قربانیاں دے رہے ہیں، آپ نے دہشت گردوں کےخلاف کبھی کچھ بولا؟ طالبان خان کس کا نام رکھا گیا تھا، جن جن اضلاع سے لانگ مارچ گزر رہا ہے وہاں دھماکے ہورہے ہیں، آپ کے خیبر جانے کا مقصد دہشت گردوں کو سپورٹ کرنا تھا۔انہوں نے کہا کہ جب افغانستان سے ڈرون آتے ہیں تو آپ کی مجرمانہ خاموشی صوبے کے ساتھ زیادتی ہے، آپ صرف اسلام آباد رہائی کے لیے جاتے ہیں۔وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ ایمرجنسی کے حوالے سے غور و خوض مکمل ہو گیا، ایمرجنسی 12 اضلاع میں نہیں، پورے صوبے میں لگے گی۔ جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذاکرات، دہشتگردی کے خلاف صوبائی حکومت کے تعاون سے مشروط ہوں گے۔واصح رہے کہ وفاقی حکومت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کیلئے ایکشن لینے کی تیاری پکڑ لی ہے اور سہیل آفریدی کے طرز عمل تبدیل نہ کرنے پر حکمت عملی بھی تیار کر لی گئی ۔نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایاکہ وزیراعظم شہبازشریف (آج) ہفتہ کو حکمت عملی پر رفقا سے مشاورت کریں گے جبکہ وفاقی حکومت کی مشاورت اور بریفنگ کے بعد اہم فیصلے متوقع ہیں ۔ذرائع نے دعویٰ کیاہے کہ ملک بھر میں پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کو گرفتاریا نظر بند کرنے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں، خیبرپختونخوامیں گورنر راج یا ایمرجنسی کی صورت میں سخت ایکشن متوقع ہے۔خیبرپختونخوا میں پولیس اور بیورو کریسی کو متحرک کرنے کی حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے ، احتجاج کیلئے باہر نکلنے والوں کیخلاف گرفتاریوں سمیت سخت قانونی کارروائی کا امکان ہے،احتجاج کو محدود کرنے کیلئے صوبائی انتظامیہ کو خصوصی ہدایات دیئے جانے کا امکان ہے۔یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ رات مشاورتی اجلاس کے بعد سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا جس مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم کو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے گریز کا مشورہ دیا، کہا ایمرجنسی یا گورنر راج سے حکومتی جماعتوں کو سیاسی نقصان ہوگا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان مذاکراتی ڈیڈلاک اور پی ٹی آئی کے لانگ مارچ پر تبادلہ خیال کیا گیا، مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم سے دوران گفتگو کہا کہ معاملات کےافہام و تفہیم سےحل کیلئے کردارادا کرنے کو تیار ہوں۔وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمان کی سیاسی بصیرت اور احتجاجی تحریک سے دورر ہنے کے فیصلے کی تعریف کی اور کہا کہ وفاقی حکومت نے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی بھرپور اور مخلصانہ کوشش کی مگر خیبرپختونخوا حکومت کا دہشتگردی کیخلاف اقدامات میں تعاون سےانکارمذاکرات کی ناکامی کاباعث بنا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا غفلت بھی قابل قبول نہیں۔مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم سے کہا کہ وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی معاملات کی بہتری کیلئے مذاکرات کو ایک اور موقع دیں جس پر وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اب بھی مذاکرات کی حامی ہے اسلام آباد پر چڑھائی کسی صورت قبول نہیں، پی ٹی آئی لانگ مارچ ختم کرکے مذاکرات کی میز پر واپس آئے۔






