اسلام آباد:حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور کیلئے پاکستان تحریک انصاف نے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے رابطہ کیا ہے، علی محمد خان نے ایاز صادق سے رابطہ کیا اور زوردیا کہ مذاکرات کا تیسرا دور لازمی ہونا چاہیے۔ علی محمد خاںنے کہا کہ مذاکرات ہوں گے تو معاملات بہتری کی طرف جائیں گے، ہم چاہتے ہیں کہ مذاکرات کا تیسرا دور ہو تاکہ سیاسی تنا¶ میں کمی آسکے، تمام سیاسی رہنما¶ں کو اسلام آباد میں ہونا چاہیے تاکہ بات چیت کا عمل جاری رہے۔علی محمد خان نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سیاسی تنا¶ کا حل خون خرابے کے بغیر نکل آئے، پاکستان تحریک انصاف نے بار بار حکومت کو مذاکرات کا راستہ فراہم کیا، سردار ایاز صادق لاہور میں ہے اسلام اباد آئیں گے تو ملاقات بھی ہوگی۔پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ ہر مصیبت جھیلنے کو تیار ہیں مگر اصولوں سے دستبرداری اختیار نہیں کریں گے۔لاہور ہائیکورٹ آمد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بے گناہوں کو بے گھر نہیں ہونے دیں گے، کوئی ایسا معاہدہ نہیں کریں گے جو بے اصولی پر مبنی ہو، ہم نے بار بار کہا کہ عوام کا خون ہمارے لیے مقدم ہے، ایسے لائحہ عمل کا حصہ نہیں بنیں گے جس سے بےگناہوں کا لہو بہے۔ان کا کہنا تھا پی ٹی آئی کا جنرل سیکرٹری ہوں میرے اوپر بہت ذمہ داریاں ہیں، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے کیسز کو بھی دیکھا رہا ہوں، پنجاب لانگ مارچ میں بالکل شرکت کرے گا اور بڑی تعداد میں قافلے شامل ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ پشاور میں متعدد کارکنوں کو اغواءکیا گیا اس کی مذمت کرتا ہوں، پورے ملک فسطائیت راج ہے ہم انہیں کہتے ہیں ہوش کے ناخن لیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا امید ہے کہ مولانا فضل الرحمان مذاکرات میں اچھا کردار ادا کریں گے، ہم اب بھی بامقصد مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے بہت کوشش کی، مولانا کو اپوزیشن الائنس میں شامل کریں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پی ٹی آئی ریاست کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے کہا گورنر راج یا ایمرجنسی لگانا مسئلے کا حل نہیں، سہیل آفریدی نے کبھی دہشت گردوں کی حمایت میں بیان نہیں دیا۔چیئر مین پی ٹی آئی نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کی گاڑیاں کچے میں پھنسی ہیں، انا ختم کریں، بیٹھ کر مذاکرات کریں، پی ٹی آئی اب بھی بامقصد مذاکرات کے لیے تیار ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ لانگ مارچ شیڈول میں تبدیلی مولانا فضل الرحمان کی مشاورت سے ہوئی ہے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے سعودی عرب سے اسد قیصر سے رابطہ کرکے کہا تھا کہ آپ لانگ مارچ کے حوالے سے تھوڑا سلو ہوجائیں۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ لانگ مارچ صوابی آنے سے پہلے شیڈول میں مولانا فضل الرحمان کی مشاورت سے تبدیلیاں ہوئیں، لانگ مارچ دو تین شہروں کی طرف موڑنے کا فیصلہ مولانا فضل الرحمان کے کہنے پر کیا گیا۔دوسری جانب سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ ناصر عباس نے کہا کہ مجھے اور محمود اچکزئی کو لانگ مارچ یا مذاکرت سے متعلق مولانا سے رابطوں کا علم نہیں۔






