دالبندین ،  ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ادویات ناپید

دالبندین ، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ادویات ناپید

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

دالبندین محمد بخش بلوچ سے ) ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ادویات ناپید دور دراز کے غریب مریض تو دور کی بات ہسپتال کے اسٹاف کو ایک معمولی فلیجل کی ڈرپ مہیسر نہیں ہسپتال میں صرف ہر طرف صوفہ سیٹ ہی صوفہ سیٹ مگر ضروری ادویات دستیاب نہیں ہسپتال انتظامیہ کے نااہلی کے سبب شعبہ حادثات میں یو پی ایس سسٹم فراہم کیا گیا بجلی کا لائن کہی مہینوں سے منقطع پیرامیڈیکس کے اہلکار بجلی چلے جانے کے بعد موبائل کے لائیٹ سے کام کرنے میں مجبور 22 کروڑ روپے کی لاگت سے سعودی شیخ کے فنڈز سے بننے والی عالیشان ہسپتال صرف نمائش کی حد تک رہ گیا ہسپتال میں معمولی بیماری کا ادویات مہیسر نہیں مہینے میں آفیسران اور عوامی نمائندے کے فوکل پرسن کی درجنوں دورے ہسپتال کا کیا جاتا ہیں مگر بدقسمتی دورے صرف دورے ہی رہتے ہیں ضلع چاغی کے مختلف دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے غریب مریض کہی گھنٹوں بعد ادوایات کے بغیر واپس چلے جاتے ھیں یا پرائیویٹ میڈیکل اسٹورز سے خریدنے پر مجبور ہوتے ہیں نمائش کی حد تک تو پرنس فہد ہسپتال دالبندین کا کوئی ثانی نہیں ہر طرف صوفہ سیٹ ہی صوفہ سیٹ لگے ہوئے ہیں مگر مریضوں کو معمولی کیلئے گولی تک دستیاب نہیں ہوتی سیاسی و سماجی حلقوں نے سیکرٹری ہیلتھ سے مطالبہ کیا کہ وہ ضلع چاغی کے آبادی کو مدنظر رکھ کر ادویات کو کوٹہ بڑھائے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!