پشےن :پشتونخواملی عوامی پارٹی کے رہنماوں نے کہا ہے کہ پشتون قوم کی قومی محکومی اورزندگی کے ہر شعبے مےں ظلم وجبر سے نجات کےلئے خان شہےد اور ان کے ساتھےوں کی قربانےوں سے لبرےز جدوجہد مشعل راہ ہے جو جنوبی پشتونخوا کے وجود ، تشخص اور قومی حقوق واختےارات کے حصول کےلئے ڈٹ گئے اور آج اس دو قومی صوبے مےں جنوبی پشتونخوا کے عوام کی ہر قسم کی نمائندگی اور حقوق واختےارات خان شہےد عبدالصمد خان اچکزئی کی جدوجہد کا ثمر ہے اور اسے مزےد آگے لےجا ہوگا ۔ کرونا وائرس کی روک تھام کےلئے وفاقی وصوبائی اور نےشنل ڈےزائسٹر مےنجمنٹ کی دوغلی پالےسی نے اس وباءکو صوبے کے ہر گھر تک پہنچا دےا۔ ٹڈی دل (ملخ) کے خاتمے کےلئے فوری سخت اقدامات ضروری ہے ، دو گھنٹے کی بجائے 12گھنٹے کی بجلی کی ترسےل ہر حالت مےں چاہےے۔ ان خےالات کا اظہار پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی وصوبائی سےکرٹری وسابق صوبائی وزےر عبدالرحےم زےارتوال ، پارٹی کے صوبائی سےکرٹری اطلاعات محمد عےسیٰ روشان ، مرکزی کمےٹی کے رکن سےد لےاقت آغا، ضلعی ڈپٹی سےکرٹری سےد محمد امےن بشر ، سےد اکبر آغا اور سےد عبدالرازق آغا نے کے کلی کربلا پشےن مےں شمولےتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کےا۔ اس موقع پر مختلف سےاسی پارٹےوں سے کارکنوں نے مستعفی ہوکر سےد ابراہےم آغا کی سربراہی مےں پشتونخوامےپ مےں شمولےت کا اعلان کےا۔ جبکہ اجتماع کی صدارت پارٹی کے ضلعی سےکرٹری محمد عےسیٰ روشان نے کی۔ مقررےن نے کہا کہ پشتونخواملی عوامی پارٹی اپنے غےور عوام کی نمائندہ پارٹی ہے جس نے اپنے عوام کے تمام مسائل ومشکلات کی ہر وقت صحےح نشاندہی کرکے انہےں حل کرنے کےلئے بھرپور جدوجہد کی ہے جبکہ موجودہ پشتون بلوچ صوبہ غلط ترکےب پر بنا ، ہمارا کسی قوم سے نفرت کی بنےاد پر کوئی جھگڑا نہےں بلکہ اس مشترکہ صوبے مےں دونوں اقوام کے حقوق واختےارات کا تعےن ضروری اور لازمی ہے۔ خان شہےد عبدالصمد خان اچکزئی ہی نے جنوبی پشتونخوا کے تمام عوام کے حقوق واختےارات کے حصول کےلئے آواز بلند کرکے نئے سرے سے عظےم ساز جدوجہد کی بنےاد رکھی اور اس جدوجہد کا مقصد بھی کسی سے تعصب اور بدنےتی پر مبنی نہےں تھا بلکہ اپنے قوم کی قومی تشخص ان کے وطن اور ان کے حقوق واختےارات کا حصول چاہےے تھا اور وہ جدوجہد اب بھی جاری ہے جنہےں خان شہےد نے اپنے اور غےروں کی بے وفائی کے باعث ےک تنہا شروع کےا تھا اور ان کی آواز اب پشتونخوا کے ہر گھر تک پہنچ چکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی دارالحکومت اور وفاقی حکومت کی نااہلی کے باعث کرونا کا مرض ہرگاﺅں تک پہنچ چکا ہے اور اب بھی اس کی روک تھام کےلئے کوئی بندوبست نہےں ۔ پشےن ، ژوب ، چمن ، لورالائی سمےت صوبے کے کسی بھی ضلعی ہےڈکوارٹر مےں PCRٹےسٹ مشےن موجود نہےں جبکہ 5ارب روپے کرپشن کی نذر ہوگئے اور عدالت عالےہ مےں حکومتی رپورٹ نے تمام راز آشکارہ کردےئے ۔ حالانکہ حکومتےں عوام کی خدمت کرکے فلاحی ادارے کے طور پر کام کرتی ہےں لےکن موجودہ وزےر اعلیٰ اور ان کی حکومت اور NDMAمسلسل دروغ گوہی سے کام لے رہے ہےں جس طرح سارے صوبے مےں صرف 7وےنٹی لےٹر ہےں اور NDMAکی 2000وےنٹی لےٹرز سے ےا 2200وےنٹی لےٹرز سے کچھ نہےں دےا گےا۔ جبکہ دوسری طرف ٹڈی دل (ملخ) کا حملہ صوبے کے فصلوں اور باغات کو تباہ کررہا ہے اور اس کےلئے ہر ضلع مےں فوری اقدامات کرنے اور اسپرے کرنے کی بجائے حکومت اور ان کے ادارے ٹھس سے مس نہےں ہوئے۔ اور اسی طرح بجلی کی صرف 2گھنٹے کی سپلائی نے زرعی فصلات کو مزےد بربادی سے دوچار کردےا ہے جبکہ صوبے کے تمام اضلاع کے ہر فےڈر پر 12گھنٹے بجلی کی ترسےل لازمی اور ضروری ہے اور ہمارے دور حکومت مےں خضدار لائن، لورالائی اور ڈےرہ غازی خان لائن کے ذرےعے 650مےگاواٹ کا اضافہ کےا گےا۔ اور اس کے باوجود نااہل حکومت اور ان کے نام نہاد نمائندوں کے منہ پر تالے لگے ہوئے ہےں اور وہ اپنے صوبے کے حقوق واختےارات کا دعوت تک نہےں کرسکتے ۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخواملی عوامی پارٹی کواسمبلی سے دور رکھنے کی سازش کی گئی اور اس کا مقصد اےسے نام نہاد نمائندوں کا چ±ناﺅ تھا جو اپنے ذاتی مفادات کے ماسوائے کچھ نہ بول سکے۔ جبکہ ہمارے دور حکومت مےں 16سے زائد وزارتوں کے ساتھ ساتھ گورنر تک بھی ہمارے تھے اور ہم نے تمام صوبے مےں امن وامان قائم کرکے حکومتی رٹ بحال اور ترقےاتی کاموں کا جال بچھا دےا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے وطن کے مالک ہے اور اپنے وطن کی حق ملکےت وحق حاکمےت پر کسی کو بھی کسی قسم کی سودا بازی نہےں کرنے دےنگے بلکہ ملک کے رضاکارانہ فےڈرےشن مےں دوسرے اقوام کے ساتھ ہر شعبہ زندگی مےں برابر کے حقدار ہے ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی سلےکٹڈ حکومت نے نام نہاد پشتون نمائندوں کو صرف 5وزارتےں دی ہےں جس کی کوئی اہمےت نہےں اور نہ ہی ان کے پاس اختےارات ہےں۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخواملی عوامی پارٹی کی مخالفت اس لےئے کی جارہی ہے کہ جمہورےت ، آئےن وپارلےمنٹ کی بالادستی اور مرکز وصوبے دونوں مےں اپنے حقوق واختےارات کا مکمل طور پر حساب مانگتی رہی ہے اور اپنے دارالحکومت مےں پشتون قوم کے ہر شعبہ زندگی مےں حساب وکتاب کرتے ہوئے حکومت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ درپےش سنگےن صورتحال سے نجات کےلئے اگر نام نہاد حکومتوںنے فوری اقدامات نہےں کےئے تو ان کےخلاف بھرپور تحرےک چلانا لازمی ہوجائےگا کےونکہ ہر شعبہ زندگی مےں عوام کو جن خطرناک صورتحال کا سامنا ہے اس پر کوئی بھی مزےد خاموش نہےں رہ سکتا۔
