آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی خضدار کے سپریم کونسل چیئرمین بابائے خضدار ماسٹر عبدالخالق غلامانی ،صدر حاجی محبوب کرد،جنرل سیکریٹری مفتی جاویداحمد مینگل منصوری ،سینیئر نائب صدر حافظ گل حسن قادری ،ڈپٹی جنرل سیکریٹری میرعبدالحمید غلامانی ،جونیئر نائب صدر حافظ ثناءاللہ فاروقی ،فنانس سیکریٹری سید ثناءاللہ شاھ،پریس سیکریٹری نورحسنی نے کہا کہ خضدار شہر میں کرپٹ سیاسی مافیا اور بیوروکریسی مافیا نے خضدار کو موئن جو دڑو سے بدتر کررکھا ہے سرکاری اراضی میں بے پناھ ریکارڈ توڑ کرپشن اور بندر بانٹ ہو،تعمیراتی اسکیم ہوں ،صحت وتعلیم میں کرپشن کی انتہاءہو، اسی طرح سرکاری ،سیاسی وصحافی ملازم گٹھ جوڑ نے کرپشن میں جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ہم نے کئی بار نیب اور حکام بالا سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہےلیکن کوئی پیش رفت نظر نہیں آرہی ہے نیب کو خضدار شہر میں اتنے بڑے کرپشن کے اسکینڈلز کیوں نظر نہیں آرہے ہیں یہاں برسوں سے مسلط درجنوں ایسے کرپٹ افسران محکمہ صحت وتعلیم اور بیورو کریسی کے ملازمین کرپشن وکمیشن کو دوام دینے کیلیئے کرونا وائرس بدتر نسل دشمن وائرس کی شکل میں عذاب بن کر موجود رہے ہیں جنہوں نے خضدار کو ناقابل۔تلافی نقصان پہنچا رکھا ہے۔ اسی طرح سات مرلہ اسکیم اراضی ،ٹائون شپ سرکاری اراضی،جھلاوان کمپلیکس وگرین بیلٹ جیسی سونے کے بھائو بکنے والی سرکاری زمینوں میں سیاسی وبیورو کریسی بندر بانٹ و بدترین کرپشن کے حوالے سے تاحال کاروائی نہ ہونا نیب بلوچستان کی واضح نااہلی کا ثبوت ہے۔حالیہ کرونا لاک ڈائون وفاقی راشن ریلیف فنڈ ساڑھے چار کروڑ روپے 4,50000000 من پسند ایم پی ایز ومقامی بیورو کریسی مافیا وکرپٹ نام نہادسیاسی ٹولے میں بندر بانٹ کی نذر ہوچکا ہے باقاعدہ خبریں گردش کررہی ہیں کہ اس راشن ریلیف کی کرپشن کے ذریعے حاصل کردہ رقم کے ذریعے سے کراچی میں مہنگے داموں مخصوص افراد نے بنگلے خرید رکھے ہیں جو ان کے لیئے ڈوب مرنے کے مترادف ہے اسی طرح قومی کرکٹر شاہد آفریدی نے 1000ایک ہزار غریبوں کیلیئے راشن کا اعلان کیا صرف ایک سو100راشن بذات خود تقسیم کیئے باقی 900نوسو راشن نامعلوم کہ زمین کھاگئی یا آسمان کھا گیا؟ ہم پرزور مطالبہ کرتے ہیں کمشنر قلات ڈویژن وضلعی انتظامیہ سے اس حوالے سے اپنا مئوقف عوام کے سامنے پیش کریں اور ہم چیئرمین نیب پاکستان ،،سپریم کورٹ آف پاکستان ،وزیراعلئ بلوچستان وچیف سیکریٹری بلوچستان سے خضدار کے غریب عوام کے مطالبے کے پیش نذر کرپٹ افراد کے خلاف تحقیقات وقانونی محکمانہ کاروائی کا مطالبہ کرتے ہیں اس حوالے سے ہم ایک بڑے عوامی جلسے کے ذریعے مین بازار چوک پر احتجاجی جلسہ کا اعلان کرکے تمام رازوں سے پردہ اٹھائیں گے فیصلہ خضدار کے عوام کی مرضی کے مطابق ہوگا جس کی تمام تر ذمہ داری منتخب قومی ممبروسینیٹران ،صوبائی ممبران ،سابق پولیٹیکل سیکریٹری وزیراعلئ بلوچستان وضلعی انتظامیہ پر عائد ہوگی ۔
