سینیگال ،  کشتی ڈوبنے کے واقعے میں 140 مہاجرین ہلاک

سینیگال ، کشتی ڈوبنے کے واقعے میں 140 مہاجرین ہلاک

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

سینیگال میں کشتی ڈوبنے کے حادثے میں ہلاک ہونے والے مہاجرین کی تعداد اب تک کم از کم 140 ہوگئی ہے۔ یہ حادثہ سینیگال کے ساحل پر پیش آیا تھا اور کہا جا رہا ہے کہ رواں برس کشتی ڈوبنے کا اب تک کا یہ سب سے بڑا سانحہ ہے۔ مہاجرین سے متعلق عالمی ادارے ‘انٹرنیشنل آفیسر فار مائیگریشن’ (آئی او ایم) نے جمعرات 29 اکتوبر کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے سینیگال کے ساحل سمندر پر 200 مہاجرین پر مشتمل جس جہاز کے ڈوبنے کا واقعہ پیش آیا تھا اس میں 140 سے بھی زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اس کے مطابق اس برس سمندری جہاز کا اب تک یہ سب سے بھیانک واقعہ ہے۔ آئی او ایم نے اس سلسلے میں ایک بیان جاری کرنے کے ساتھ ہی ٹویٹ بھی کیا ہے، جس میں اس واقعے پر گہرے صدمے کا اظہار کیا گیا ہے۔ ”گزشتہ ہفتے وسطی بحیرہ روم میں چار جہازوں کے حادثے پیش آئے اور پھر اس کے بعد یہ بڑا سانحہ پیش آیا جس پر ہمیں شدید افسوس اور غم ہے۔” وسطی بحیرہ روم میں یہ واقعہ گزشتہ ہفتے پیش آیا تھا جس کے بعد سینیگال کے حکام نے بتایا تھا کہ اس واقعے میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوگئے لیکن 60 کو بچا لیا گیا ہے۔ تاہم تازہ رپورٹ کے مطابق جہاز میں 200 تارکین وطن سوار تھے جس میں سے کم از کم 140 ہلاک ہوگئے ہیں۔ حادثے کا شکار ہونے والی مذکورہ کشتی گزشتہ سنیچر کو ساحلی شہر مابور سے چلی تھی۔ لیکن آئی او ایم کے مطابق اس کشتی کی روانگی کے چند گھنٹے بعد ہی اس میں آگ لگ گئی اور حادثے کا شکار ہوگئی۔ سینیگال کے حکام کے مطابق آگ ایندھن جمع کرنے والے ڈرم میں لگی تھی اور کشتی بالآخر سینیگال کے شمال مغربی ساحلی شہر سینٹ لوئس کے پاس ڈوب گئی۔ اگست میں لیبیا کے ساحل پر بھی اسی طرح کے ایک حادثے میں 45 تارکین وطن ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد اقوام متحدہ نے عالمی برادری سے مہاجرین سے متعلق اپنے رویے میں تبدیلی کی اپیل کی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!