کوئٹہ:بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے سربراہ میراسرار اللہ زہری نے کہا ہے کہ بی این پی عوامی کسی ایسی تحریک کا حصہ نہیں بنے گی جو کسی کے مفادات کے تحفظ کے لئے بنائی گئی ہوپارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے اجلاس میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا کہ آئندہ کیا کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے حیران ہوں بی این پی مینگل بیگانی شادی میں دیوانے کا کردار کیوں ادا کررہی ہے یہ دو آقاﺅں کا آپس میں جھگڑا ہے ہم جیسے غلاموں کو آقاﺅں کی رسہ کشی میں فریق نہیں بننا چاہئے یہ بات انہوں نے صحافیوں کے گروپ سے بات چیت کرتے ہوئے کہی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم میں شامل مختلف خیالات اور نظریات کی حامل جماعتیں صرف میاں نواز کو تحفظ دینے کے لئے اکٹھی ہیں ہم اس مفادات کی جنگ میں شریک نہیں ہونا چاہتے اپوزیشن جماعتوں کی اس تحریک کے نتائج کیا نکلیں کچھ کہہ نہیں سکتا ہاں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ اگر میاں نواز شریف کی کوئی ڈیل ہو گئی تو پی ڈی ایم کا وہی انجام ہوگا کہ جو مولانا کی آزادی مارچ کے وقت ان بڑی جماعتوں نے کیا تھا اور مولانا کو مجبوراً بارش کی آڑ میں اپنی آزادی مارچ ختم کرنا پڑی ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بلوچستان میں ہماری جماعت پی ٹی آئی کی اتحادی نہیں ہے بلکہ ہم سابق وزیراعلیٰ جام یوسف کے صاحبزادے جام کمال کے اتحادی ہیں یہ الگ بات ہے ان سے آج کل ہمارے تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں ہم اپنی بلوچی زبان کے پابند ہیں ان کا ساتھ دے رہے ہیں انہیں بھی معلوم نہیں کہ اتحادیوں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہئے تاہم انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت کو کوئی خطرہ نہیں یہ سب زبانی جمع خرچ ہیں بی این پی کے سربراہ سردار اخترجان مینگل اپنے کزن وزیراعلیٰ جام کمال کے خلاف نہیں جائیں گے اپوزیشن سائیڈکو سردار اختر جان مینگل نے اور حکومت کی سائیڈ وزیراعلیٰ جام کمال نے سنبھال رکھا ہے دونوں کزن اپنا کردار بخوبی انجام دے رہے ہیں سوشل میڈیا پر وہ ایک دوسرے پر فرینڈلی فائر کرتے رہتے ہیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی ہماری اتحادی ضرور ہے لیکن ہم ان کے کہنے پر پی ڈی ایم میں کسی اور کے مفادات کو تحفظ دینے نہیں جائیں گے اور نہ ہی پیپلزپارٹی ہمیں مجبور کرے گی کہ ہم ان کے کہنے پر پی ڈی ایم کا حصہ بنیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کا اجلاس جلد بلایا جارہا ہے جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گاایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں تبدیلی اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک باپ کے داداﺅں کی طرف سے اجازت نہیں ملتی ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک کے حالات بہتری کی طرف نہیں جارہے ایک دو ہفتوں تک صورتحال واضح ہو جائے گی پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے بیانیہ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بیانیہ بیان کرنے والوں کو بھی سمجھ نہیں آرہا البتہ اس کے پس منظر میں ڈیل کی باتیں بھی چل رہی ہیں اس ڈیل کا کیا ہوگا کچھ نہیں کہہ سکتا ۔
