تربت: وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے تدارک اور خاتمہ کیلئے دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ تربت میں ایک آئی سی یو کمپلیکس تعمیرکرائی جائے گی ، ضلع کیچ میں کورونا لاک ڈاﺅن کے متاثرین میں احساس پروگرام کی جانب سے 40کروڑ روپے کی خطیررقم تقسیم کی گئی ہے ، ضلع کیچ میں کرونا وائرس کے کیسز کا سامنے نہ آنا خوش آئندہے اس میں ضلعی انتظامیہ کی کاوشیں لائق تحسین ہیں، تربت سٹی ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کے نئے فیز کے تحت مزید ترقیاتی کام کرائے جائیںگے، ان خیالات کااظہار انہوں نے ٹیچنگ ہسپتال تربت میںکرونا آئیسولیشن وارڈکے دورے کے بعد میڈیا نمائندوں سے گفتگوکے دوران کیا، اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی لالہ رشید دشتی ،رکن صوبائی اسمبلی ماہ جبین شیران، کوآرڈی نیٹر ٹو وزیر اعلیٰ میر عبدالرﺅف رند، کمشنر مکران طارق قمر اور ڈپٹی کمشنر کیچ میجر(ر) محمدالیاس کبزئی ، ڈی ایچ او کیچ ڈاکٹررحیم بلیدی ودیگر حکام بھی موجودتھے ،انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت بلوچستان میں کرونا وائرس کے تدارک کے لئے مختلف اضلاع میں ضلعی انتظامیہ کی بھر پور معاونت کررہی ہے تاکہ بلوچستان کے عوام کو اس وبائی مرض سے بچایا جا سکے، انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ صوبہ بلوچستان میں کرونا وائرس کا وبا اتنی تیزی سے نہیں پھیلا جتنی خدشات تھیں اس کی بہت ساری وجوہات ہیںصوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے علاوہ صوبہ بلوچستان کے دیگر شہروں میں کرونا وائرس کے کنٹرول کرنے کی سب سے بڑی وجہ صوبائی حکومت کی جانب سے سخت اقدامات اور صوبے کا وسیع وعریض رقبہ ہے، انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کرونا کے سب سے زیادہ 80فیصد کیسز کوئٹہ میں رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ نصیرآباد اور پشین میں چند کیسز بھی سامنے آنے ہیں جبکہ مجموعی طور پر باقی علاقوں میں صورتحال کنٹرول میں ہے، انہوں نے کہا کہ ان کے تربت شہر کے دورے کا مقصد مکران ڈویژن میں کرونا وائرس کے حوالے سے محکمہ صحت اور دیگر اداروں کی جانب سے اقدامات کا جائزہ لینا اور انکی نگرانی کرنا ہے تاکہ تربت اور ان سے منسلک علاقوں کو کرونا کی وبا سے مکمل طورپر محفوظ رکھا جاسکے، تربت شہر میں اب تک کرونا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے مگر ہمیں اپنی طرف سے بھر پور تیاری کرنی چاہئیںانہوں نے کہاکہ حکومت نے ایمرجنسی بنیادوں پر بہت سارے اقدامات اٹھائے ہیں جن میں آئیسولیشن وارڈزکاقیام، راشن کی تقسیم، احساس پروگرام کے تحت دیہاڑی دار طبقے کو مالی امداد بہم پہنچانے سمیت دیگر اقدامات شامل ہیں، اس عالمی وباءکے بعد اب آہستہ آہستہ چیزوں کوبہتری کی طرف لیکرجانا ہے ،مکران ڈویژن، رخشان ڈویژن، خضدار میں صحت کے حوالے سے کام کرنے کی ضرورت ہے ، اس سلسلے میں تربت میں ایک اچھے ہیلتھ سینٹرکے قیام پر غورکیاجارہاہے جہاں پر صحت کی تمام ترسہولیات دستیاب ہوں، ادویات کی خریداری کے سلسلے میں ایم ایس ڈی کو ڈی سینٹرلائز کیاجارہاہے ، کرونا لیبارٹری قائم کرنے کی ہدایت دی ہے ، انہوں نے کہاکہ سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹرعبدالمالک نے یہاں پر اچھا کام کیا شہرکوترقی دی تعلیمی ادارے اور سڑکیں وغیرہ بنائے ،ہم اس سلسلے میں پیکیج 2لارہے ہیں تربت شہر کی مزید ترقی کیلئے اقدامات اٹھارہے ہیں انہوں نے کہاکہ ہماری کوشش ہوگی کہ ہرعلاقہ میں ترقیاتی کام نظر آئیں انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے پہلی دفعہ بلوچستان کی تاریخ میں سارے علاقوں کی یکساں ترقی پر توجہ دے رہی ہے اور اس حوالے سے صوبائی پی ایس ڈی پی میں سب اضلاع کے لئے خطیر رقم مختص کی ہیں جن میں تعلیم صحت اور دیگر شعبے شامل ہیں ،ہماری حکومت نے صوبائی بجٹ میں نہ صرف نئے اسکیمات شروع کیے ہیں بلکہ پچھلی حکومتوں کے 1000اسکیموں کو بھی بجٹ میں شامل کیاہے جن میں500کے قریب اسکیمیں مکمل کی جاچکی ہیں جبکہ باقی اسکیمیں آئندہ سال مکمل کرلی جائیںگی ،انہوں نے کہاکہ ایم پی اے لالہ رشید دشتی کے کہنے پر تربت بل نگور روڈ کی منظوری دی گئی ہے جبکہ مند تاگوادر 112کلومیٹر لمبی نئی سڑک آئندہ وفاقی یا صوبائی بجٹ سے تعمیر کرائی جائے گی ،بلیدہ روڈ پرکام جاری ہے ،انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اخوت پروگرام کے تحت بلوچستان کے لاک ڈاﺅن سے متاثرہ عوام کےلئے ایک پروگرام شروع کرچکی ہے جس کے تحت 25 ہزار لوگوں کو 20 ہزار کا قرض بغیر کسی سود کے فراہم کیا جارہاہے تاکہ لوگوں کی مشکلات میں کمی لائی جاسکے، جبکہ اس کا دوسرا فیز بھی جلدشروع کیاجائے گا جس کے تحت ایسے نوجوان جو کسی دوکاندار کے پاس کام کرتے تھے یا کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کرتے تھے متاثرہوئے ہیں ان کیلئے حکومت اقدامات اٹھائے گی، انہوں نے کہاکہ لاک ڈاﺅن سے معیشت پر بہت بڑا اثر آئے گا جس کے اثرات سے نمٹنے کیلئے صوبائی حکومت زراعت، معدنیات، لائیو اسٹاک اور فشریز کے شعبوں کی بہتری پرکام کرے گی.






