کوئٹہ: وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ کسی بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں خواتین کے مثبت اور تعمیری کردار سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ خواتین ہمارے ملک کی آبادی کا نصف حصہ ہیں جنہیں ہر لحاظ سے بااختیار بنانے کیلئے موجودہ صوبائی حکومت خاطر خواہ اقدامات کررہی ہے۔ تاکہ صوبے کی خواتین سماجی، معاشی اور سیاسی طور پر بااختیار ہوتے ہوئے ملک اور صوبے کی تعمیر و ترقی میں اپنا بھر پور کردار ادا کرسکیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو جینڈر ایکویلٹی اینڈ وومن امپاورمنٹ پالیسی (Gender Equality and Women Emporwerment Policy 2020-24)کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔واضح رہے کہ وومن امپاورمنٹ پالیسی محکمہ ترقی نسواں حکومت بلوچستان اور یو این وومن پاکستان کے اشتراک سے تیار کی گئی ہے۔ تقریب میں پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ بلیدی، رکن صوبائی اسمبلی شاہینہ کاکڑ، چیف سیکرٹری بلوچستان کیپٹن (ر) فضیل اصغر، سیکرٹری وومن ڈویلپمنٹ بلال جمالی، سیکرٹری محنت و افراد قوت محترمہ سائرہ عطا،سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور اکبر حریفال اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سمیت یواین وومن اور وومن ڈویلپمنٹ کے افسران اور خواتین کی کثیر تعداد موجود تھی۔ وزیراعلی نے خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے پالیسی کی باقاعدہ اجرا پر محکمے کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے موجودہ حکومت قانون سازی کے ساتھ ساتھ ان کو معیاری تعلیم کی فراہمی کیلئے موثر اقدامات اٹھارہی ہے اور اس شعبے میں مسلسل کامیابیاں بھی حاصل کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ان کو بااختیار بنانے کے ساتھ ان پر ہر قسم کے تشدد کے خاتمے کیلئے ہماری حکومت پر عزم ہے اور یہ ہماری آئینی ذمہ داری بھی ہے کہ حکومت ایک جامع منصوبہ بندی کے تحت خواتین کو تحفظ فراہم کرے تاکہ انہیں ہر شعبے میں بااختیار بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے خواتین کو تین اہم شعبوں میں نمائندگی دی ہے اس کے علاوہ پہلی بار انتظامی سطح پر بھی خواتین افسران کو تعینات کیا جارہا ہے۔ خواتین کو ہر شعبہ میں بہتر کردار ادا کرنے کیلئے بھرپور سپورٹ دی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنے ترقیاتی پروگرام میں خواتین کی ترقی کیلئے کئی منصوبے شروع کئے ہیں جن میں خواتین بزنس انکیوبیشن سینٹرز، خواتین بازار اور ڈیژنل ہیڈ کوارٹرز میں ورکنگ وومن ہاسٹل کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے۔وزیراعلی نے کہا کہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین کی خاطر خواہ نمائندگی ہے اس کے ساتھ ساتھ بلوچستان کی خواتین نے سیاسی اور پیشہ ورانہ میدان میں میرٹ پر مقابلہ کرکے اپنی صلاحیتوں کو لوہا بھی منوایا ہے خواتین نے یہ مقام اپنی محنت اور لگن اور قابلیت سے حاصل کیا ہے۔ وزیراعلی بلوچستان نے خواتین پارلیمنیٹرین پر زور دیا کہ وہ خواتین کی بہتری کیلئے کام کرتے ہوئے وومن اورینٹڈ پرواجیکٹس متعارف کرائیں، تمام علاقوں کی خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے اقدامات کریں،دیہی علاقوں میں خواتین کیلئے ڈیجیٹل لائبریریزکا قیام عمل میں لائیں۔ان تمام اقدامات سے خواتین کے کلیدی کردار کو مزید اجاگر کرنے میں مدد ملے گی۔وزیراعلی نے کہا کہ صوبائی حکومت خواتین کے حقوق کے تحفظ کیلئے قانون سازی کے عمل کو جاری رکھے گی اور پہلے سے موجود قوانین میں بہتری لانے کیلئے ان میں ترامیم بھی کرے گی۔وزیراعلی نے کہا کہ صرف پالیسی بنانا اصل کام نہیں ہے پالیسیوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے بھی ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے انہوں نے امید ظاہر کی کہ خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق پالیسی کے نفاذ سے صوبے کی خواتین کو اپنے پاں پر کھڑا کرنے کیلئے راہ ہموار ہوگی۔بعد ازاں وزیراعلی بلوچستان نے پالیسی ڈاکیومنٹ پر دستخط کرکے باقاعدہ اجرا کیا۔ آخر میں وزیراعلی نے تقریب کے شرکا میں شیلڈز بھی تقسیم کیں۔
