لاہور : قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی (نیکٹا) نے 13 دسمبر کو پاکستان میں دہشت گردانہ حملے کا الرٹ جاری کردیا۔ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کی جانب سے جاری سیکیورٹی الرٹ میں کہا گیا ہے کہ کالعدم تنظيم دہشت گرد کارروائی کرسکتی ہے۔ دہشت گردی کس شہر میں ہوسکتی ہے، تاہم تفصیلات معلوم نہیں ہوسکیں۔ جاری کردہ سیکیورٹی الرٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں کا ممکنہ حملہ لاہور میں بھی ہوسکتا ہے۔ 13دسمبر کو پی ڈی ایم کا مینار پاکستان پر جلسہ بھی ہو رہا ہے۔ پشاور میں ناکامی کے بعد دہشت گردوں نے اپنے منصوبے میں رد و بدل کیا ہے۔ حملے کے خطرہ پر مختلف مقامات پر سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کردیئے گئے ہیں، جب کہ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مشکوک عناصر پر نظر رکھیں۔
دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے بھی ملک میں کرونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے تناظر میں پی ڈی ایم قیادت سے 13 دسمبر کو لاہور کے مینار پاکستان میں ہونے والا جلسہ منسوخ کرنے کی اپیل کی ہے۔ اسلام آباد میں اجلاس کی صدارت کے دوران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں سے 2، تین ماہ کیلئے جلسے جلوس ملتوی کرنے کی اپیل کرتا ہوں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ جلسے جلوسوں سے حکومت پر کوئی فرق نہيں پڑے گا، ملتان جلسے کے بعد کرونا مريضوں کيلئے مختص 64 فيصد بيڈز بھر چکے ہيں، پشاور ميں 40 اور اسلام آباد ميں 50 فيصد بيڈز بھر گئے، اسی رفتار سے کيسز بڑھتے رہے تو مشکل ہو جائے گی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان ڈیموکریٹک موؤمںٹ کے کوئٹہ میں ہونے والے جلسے کے درمیان شہر کے قریب ہزار گنجی کے مقامے پر ہلکی نوعیت کا دھماکا ہوا تھا، جس میں 3 افراد جاں بحق، جب کہ 10 زخمی ہوئے تھے۔ دہشت گردوں نے دھماکا خیز مواد موٹرسائیکل میں نصب کررکھا تھا۔ دھماکے سے گاڑی اور متعدد موٹر سائکلیں تباہ ہوگئیں جب کہ متعدد دکانوں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق موٹرسائیکل میں 4 سے 5 کلو دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا اور دھماکا ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیا گیا۔
واضح رہے کہ نیکٹا نے کوئٹہ جلسے سے قبل کوئٹہ میں دہشت گردی کے خطرے کا الرٹ جاری کیا تھا
