کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)مشترکہ ورثہ برائے امن گروپ کے ممبران نے کہا کہ تنظیم نے صوبے میں امن کے فروغ کیلئے روایتی طریقوں کے مطابق مشترکہ ورثہ برائے امن گروپ تشکیل دے کر صوبے میں صدیوں سے آباد مذاہب و قبائل کو جوڑنے کے منفرد کام کا آغاز کیا ہے ،بلوچستان حکومت صوبے کی مشترکہ ثقافت و سیاحت کا ایک دن مخصوص کرے ،یہ بات چیف ایگزیکٹو ٹو ڈیز وومن آرگنائزیشن اور مشترکہ ورثہ برائے امن گروپ کے آرگنائزر گل حسن درانی ، بلوچستان وومن بزنس ایسوسی ایشن کی چیئرپرسن ثناءدرانی ، سردار جسبیر سنگھ ، شیزان ولیم بھٹی ، کمل کمار ، حاجی حنیف کاکڑ ، لیاقت ہزارہ ، بلقیس اچکزئی ، حورین بلوچ ، صباء ہزارہ ، ڈاکٹر ہلال بابر ، ڈاکٹر غلام مصطفی ابڑو ، ثمینہ نور ، نازیہ میر ، معیز راجپوت ودیگر نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی اس موقع پر انہوں نے مزید کہا کہ مشترکہ ورثہ گروپ زندگی کے تمام شعبوں اور مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والوں پر مشتمل ہے ا س کے تمام ممبران صوبے میں صدیوں اور سے آباد مذاہب و قبائل کا خوبصورت گلدستہ ہے ، یہ مشترکہ ورثہ گروپ ہماری تنظیم ٹو ڈیز وومن آرگنائزیشن نے کرسچن اسٹڈی سنٹر کے تعاون سے بنایا ہے جس میں ہم مشترکہ ورثہ برائے امن جیسے اہم مقصد پر کام کررہے ہیں۔ ہمارے گروپ کا نام مشترکہ ورثہ برائے امن ہے ہماری تاریخی ثقافت صدیوں پر مشتمل ہے جس میںہمارا رہن سہن، زبان، لباس ، ادب ، شاعری، تہوار کھانے ، روایتی موسیقی کھیل ، آثار قدیمہ اور سیاحتی مقامات شامل ہیں جو کسی بھی اعتبار سے قدتی خزانے سے کم نہیں۔اس سکینڈوں میں بدلتے جدید دور میں ہم اپنے ورثہ وثقافت کے حوالے سے دن بدن ناآشنا ہوتے جارہے ہیں اس حوالے سے صوبے کے بلوچ، پشتون، ہزارہ اور سندھی اقوام مخصوص ثقافتی تہوار مناکر اپنی ثقافت و تاریخی ورثہ کو زندہ رکھنے کی بہترین و مثالی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں اس سے نہ صرف یہ اقوام ایک دوسرے کی ثقافتی تہواروں میں شامل ہو کر ایک دوسرے سے قریب ہورہی ہیں بلکہ اس کا سب سے بڑا فائدہ امن کے فروغ کی صورت میں ملا ہے ہماری تنظیم نے امن کے فروغ کیلئے روایتی طریقوں کے مطابق مشترکہ ورثہ برائے امن گروپ تشکیل دیا ہے جس میں مختلف سرگرمیاں جسے رابطہ کاری کے لیے وائٹس ایپ گروپ کی تشکیل ، گروپ کی ماہانہ ملاقاتیں ، صوبے کے اہم مقامات کی سیاحتی دورے ، ٹی وی ریڈیو پروگرام روایتی لباس اور کھانوں کے مقابلوں کے ساتھ ساتھ ثقافتی کھیلوں کے مقابلے بھی منعقد کررہے ہیں ہماری تنظیم نے ثقافی روایات ، تاریخی امن و بھائی چارے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات سے صوبے میں صدیوں سے آباد مذاہب و قبائل کا یہ مشترکہ وفد بناکر انسانوں کو جوڑنے کے منفرد کام کا آغاز کیا ہے تاکہ ہمارا مشرکہ ورثہ ، تاریخی ثقافت ، ہمارا رہن سہن زبان ، لباس ، ادب ، شاعری ، تہوار ، کھانے ، موسیقی روایتی کھیل اور سب سے بڑھ کر ہمارے صدیوں پرانے آثار قدیمہ اور سیاحتی مقامات کا تحفظ شامل ہے۔ انہوں نے صوبائی مشیر کھیل وثقافت عبدالخالق ہزارہ سے اپیل کی کہ وہ صوبے کی مشترکہ ثقافت و سیاحت کا دن مخصوص ایک مخصوص مشترکہ ثقافتی دن سے صوبے کی سیاحت کے جدید دور کا بھی آغاز ہوگا۔
