نیب اور ایف آئی اے کو ایل این جی میں 122 ارب کا ڈاکہ ڈالنے والوں کا چہرہ نظر کیوں نہیں آتا، مریم اورنگزیب

نیب اور ایف آئی اے کو ایل این جی میں 122 ارب کا ڈاکہ ڈالنے والوں کا چہرہ نظر کیوں نہیں آتا، مریم اورنگزیب

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ(ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ نیب اور ایف آئی اے کو ایل این جی میں 122 ارب کا دن دیہاڑے ڈاکہ ڈالنے والوں کا چہرہ نظر کیوں نہیں آتا۔ہفتہ کے روز اپنے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ نیب اور ایف آئی کو آٹا چوری میں 225 ارب کا ڈاکہ ڈالنے والوں کا فیس کیوں نہیں نظر آتا ۔نیب اور ایف آئی کو 400 ارب کی چینی چوری کرنے والوں کا فیس کیوں نہیں نظر آتا ۔نیب اور ایف آئی کو ہزاروں ارب کی دوائیاں چوری کرنے والوں کے فیس کیوں نہیں نظر آتے۔نیب اور ایف آئی کو بلین ٹری کی اربوں روپے کی چوری کا سونامی لانے والوں کے فیس کیوں نہیں نظر آتے۔نیب اور ایف آئی کو بی آر ٹی پشاور کے 126 ارب چوری کرنے والوں کے فیس کیوں نہیں نظر آتے۔نیب اور ایف آئی کو 23 فارن فنڈنگ اکاو¿نٹس کی ڈکیتی کرنے والوں کے فیس کیوں نہیں نظر آتے۔نیب اور ایف آئی کو ہیلی کاپٹر اور مالم جبہ کے چوروں اور مفروروں کے فیس کیوں نہیں نظر آتے؟نیب اور ایف آئی اے اڑھائی سال سے کمروں میں لگے فیس بدلیں۔اڑھائی سال سے جھوٹے الزامات کی بھرمار لیکن ثبوت ایک بھی نہیں ہے ۔اڑھائی سال سے صرف جھوٹے الزامات، کذب بیانی اور چور چور کا شور لیکن ثبوت کی باری عدالتوں سے فرار ہو جاتے ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!