ہوٹل اورریسٹورنٹ مالکان کوکاروبارکرنے کی اجازت دی جائے،انجمن تاجران بلوچستان

ہوٹل اورریسٹورنٹ مالکان کوکاروبارکرنے کی اجازت دی جائے،انجمن تاجران بلوچستان

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ(واحد رئیسانی سے )انجمن تاجران بلوچستان رجسٹرڈکے صدر رحیم آغا، جنرل سیکرٹری اللہ داد ترین ودیگر نے کہا کہ بلوچستان حکومت ہوٹل اورریسٹورنٹ مالکان کو ایس اوپیز کے تحت کاروبارکرنے کی اجازت دے ،کاروباری بندش سے ہوٹل مالکان مالی مشکلات سے دوچار، اجرت پر کام کرنیوالے سینکڑوں مزدور نان شبینہ کے محتاج ہوکر رہ گئے ہیں، مزید لاک ڈاﺅن متحمل نہیں ہوسکتے حکومت ایک ہفتے میں تاجر برادری کے بلیں معاف کرکے مطالبات تسلیم کرے ۔ پیر کے روز عباس صادق کاسی،سردارنقیب خان ترین،اسدخان ترین،شاہدخان کاکڑ،ملک نعیم لہڑی ودیگر کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انجمن تاجران بلوچستان رجسٹرڈکے صدر رحیم آغانے کہا کہ انسداد کورونا کیلئے 15مارچ2020ءکوبلوچستان بھر میں ہوٹل اورریسٹونٹس بند ہونے سے ہوٹل مالکان شدیدمالی مشکلات سے دوچارہیںوزیراعلیٰ بلوچستان نے اس ضمن میں صوبائی وزیرریونیومیرسلیم کھوسہ کی سربراہی میں یک کمیٹی تشکیل دی جس میں اے این پی پارلیمانی لیڈررکن اسمبلی اصغرخان اچکزئی،ای پی اے مبین خان خلجی،بلال کاکڑ،کمشنر کوئٹہ عثمان علی خان ،ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اورنگ زیب بادینی ودیگر شامل تھے جنہیں تاجربرداری کو درپیش مشکلات اور مسائل سے آگاہ کیا گیا جس پر انہوں نے ہمیں یقین دہانی کرائی کہ وزیراعلیٰ بلوچستان اورصوبائی حکومت تاجربرادری اورریسٹورنٹ مالکان کی دادرسی کرکے گیس وبجلی کے بلیں ٹیکسوں سمیت معاف کریگی اوردکانداروں وریسٹورنٹ ملازمین کو راشن فراہم کرکے آسان شرائط پرقرضے دیئے جائیںگے تاہم حکومت کی ہدایات پر ڈی سی کوئٹہ نے دکانداروں کے ملازمین کیلئے اونٹ کے منہ میں زیرہ برابر راشن فراہم کیا جس میں بھی ریسٹورنٹ ملازمین نظرانداز کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے ہوٹل یاریسٹورنٹ میں10سے60ملازمین کام کرتے ہیں جبکہ ہوٹل مالکان ماہانہ لاکھوں روپے اداکرتے ہیں ضلعی انتظامیہ کے مجسٹریٹ اورپولیس اہلکارہوٹل اورریسٹورنٹ مالکان بہانے بناکرجرمانے کے نام پر ہزاروں روپے وصول کررہے ہیں جوکہ قابل مذمت ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایس اوپیز کے تحت ہوٹل اورریسٹورنٹ مالکان کوکاروبارکرنے کی اجازت دی جائے اورایک ہفتے تک بلیں معاف کرکے مطالبات تسلیم کئے جائیں بصورت دیگر وہ مزید لاک ڈاﺅن متحمل نہیں ہوسکتے اورشدیداحتجاج کریںگے جس کی ذمہ دار حکومت وقت پرعائد ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!