اسلام آباد: پشتونخوا ملی عوامی پارٹی سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا ہے کہ جو حکومت غیر آئینی ہو اسکے سارے فیصلے اور کام غیر آئینی ہیں ،نیب کے کارناموں اور سیاہ کرتوتوں پر سینیٹ میں دس روز بحث ہونی چاہیے،انسانی حقوق کے ادارے کہتے ہیں نیب حراست میں 12 سے زائد افراد قتل ہو چکے ہیں ۔ جمعہ کو ایوان بالا میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا افغان جنگ میں جو لوگ حصہ تھے ، ان کے آمدن سے زائد اثاثوں کا ریکارڈ لے کر آئیں ،ان کے اثاثے کھربوں میں ہوں گے ،جن لوگوں نے وار زون میں کام کئے انکے اثاثوں کی تفصیلات بھی لے آئیں،انہوں نے مزید کہا کہ ایک سابق چیف جسٹس نے آئین سے غداری کی ، ا ن کے آمدن سے زائد اثاثوں کی تفصیلات بھی دےدیں ،نیب کو گونتا نامو بے کی طرح بنایا گیا ہے جس پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتااس گونتا نامو بے کے خلاف ہمیں متحد ہونا چاہئیے، نیب کو مارشل لائ ادارے کی طرح چلا ہے ہیں ۔نیب چئیرمین ، لاپتہ کمیشن کا سربراہ تھا ، اس نے آئین ، انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی ،نیب کے سربراہ کو حکومت اور خفیہ ادارواں نے بلیک میل کیا نیب چئیرمین کو حکومت جو کہتی ہے وہ کرنے پر مجبور ہیں ،عثمان کاکڑ نے کہاججز ریٹائرڈ جنرلز کے اثاثے آپ چیک کریں آپ حیران رہ جائیں گے ۔ انہوں نے کہا حکومت کو غیر آئینی انداز سے مسلط کیا گیا ، انکو جو کہا جائے گا وہ ماننا پڑے گا ، چاہے اسرائیل کو تسلیم لرنا ہو ، کوئی غیر آئینی کام کرنا ہو ، آپ کو ماننا پڑے گا ۔انہوں نے کہا مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں ہم اسٹبیلشمنٹ کو مجبور کریں گے کہ وہ سیاست میں مداخلت نہ کریں اب پارلیمنٹ اسٹیبلشمنٹ نہیں عوام کی طاقت سے آئے گی ،محمود اچکزئی نے جو کراچی میں کہا وہ ٹھیک کہا ہے ، صحیح تاریخ بیان کی ہے۔ انہوں کہا ملتان کے مخدوم کے آباو اجداد کے بارے میں معلوم کر یں کون انگریز کی فوج میں تھے ،عمران کی کیا حیثیت ہے ہمیں معلوم ہے ،ایک جرنیل نے آپ کو سیاست میں لایا ، دوسرے نے اقتدار میں ،یہ لوگ تیار نہیں ہوں گے ،پارلیمان ، سیاستدانوں ، ججز ، فوجی اور بیوروکریٹس کا احتساب مشترکہ قانون کے تحت ہو آپ کی اس قانون کو ماننے کی جرآت نہیں ہو گی ۔آپ کو جس ایجنڈے کے تحت لایا گیاآپ اس ہر عمل پیرا ہو۔
