اجتماعیت، نظم جماعت اور اجتماعی فیصلوں کا احترام اسلام کی بنیادی تعلیمات ہیں، مولانا فضل الرحمن

اجتماعیت، نظم جماعت اور اجتماعی فیصلوں کا احترام اسلام کی بنیادی تعلیمات ہیں، مولانا فضل الرحمن

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کراچی:جمعیت علما اسلام پاکستان کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اسلام اجتماعیت، نظم جماعت اور اجتماعی قیادت کی اطاعت کا دین ہے، اس لیے ہر ذمہ دار پر لازم ہے کہ وہ اجتماعی فیصلوں کا احترام کرے اور ذاتی رائے کو نظم پر ترجیح نہ دے۔دارالعلوم کراچی میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلسِ عاملہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کامیاب تحریکیں اصول، حکمتِ عملی اور واضح پالیسی کی بنیاد پر آگے بڑھتی ہیں، اس لیے جذبات کو ہمیشہ پالیسی کا تابع رہنا چاہیے، نہ کہ پالیسی کو وقتی جذبات کے تابع بنایا جائے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اختلافِ رائے باہمی احترام، دلیل اور مکالمے کے دائرے میں ہونا چاہیے۔ اگر ہر شخص اپنے محدود مطالعے کو ہی حرفِ آخر سمجھنے لگے اور دوسرے مقف کو اہمیت نہ دے تو یہ علمی روایت کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام امن، رواداری اور باہمی ہم آہنگی کا دین ہے جبکہ لڑائی جھگڑا اسلامی مزاج نہیں۔انہوں نے کہا کہ برصغیر کی دینی و سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ امارتِ شرعیہ کے قیام کے حوالے سے اکابر علما نے قوت و اقتدار کو بنیادی شرط قرار دیا تھا۔ انہوں نے دینی مدارس کے نصاب میں تاریخ کے ساتھ "السیاس الاسلامیہ” پر مستقل کتاب شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے علما عصری سیاسی تقاضوں اور اسلامی سیاسی فکر سے بہتر طور پر آگاہ ہو سکیں گے۔اجلاس کے دوران وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلسِ عاملہ نے آئندہ پانچ سال کے لیے شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کو صدر اور قاری محمد حنیف جالندھری کو ناظمِ اعلی برقرار رکھنے کی تجویز متفقہ طور پر منظور کر لی۔اس موقع پر مولانا فضل الرحمن نے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ نئی قیادت دینی مدارس کے اتحاد، اعتدال، علمی روایات اور اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے موثر کردار ادا کرے گی۔انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ دینی مدارس کی آزادی، نظریاتی تشخص اور اسلامی اقدار کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد پہلے سے زیادہ قوت، بصیرت اور یکجہتی کے ساتھ جاری رکھی جائے گی۔مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ ماضی میں مختلف مکاتبِ فکر کے ڈیڑھ ہزار سے زائد علما نے طویل مشاورت کے بعد متفقہ اعلامیہ مرتب کیا تھا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ علما کرام باہمی مکالمے اور اتفاقِ رائے کے ذریعے امت کو درپیش مسائل کا موثر حل نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!