حملے کا ہدف میں ہی تھا ، محافظین کی جوابی کارروائی میں 6حملہ آور مارے اور باقی زخمی ہوئے ،میر شفیق الرحمان

حملے کا ہدف میں ہی تھا ، محافظین کی جوابی کارروائی میں 6حملہ آور مارے اور باقی زخمی ہوئے ،میر شفیق الرحمان

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کراچی:پیپلز پارٹی کے رہنماءمیر شفیق الرحمان مینگل نے خضدار حملے کی تفصیلات بی بی سی کو بتاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بلوچستان میں شاید ہمیں نظریہ پاکستان کے سب سے بڑا علمبردار سمجھتے ہیں اس لیے وہ ہمیں سب سے زیادہ نشانہ بنا رہے ہیں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے شفیق الرحمان مینگل کا کہنا تھا کہ ’بیرونی ممالک کی ایما پر کام کرنے والے کرائے کے قاتلوں نے میرے گھر کے دروازے پر بارود سے بھری ایک گاڑی ٹکرا دی ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ بدھ کے روز ڈھائی بجے کے قریب کیا گیا جس کے نتیجے میں مرکزی دروازے کے قریب ہمارے 17 ساتھی جان کی بازی ہار گئے جبکہ کچھ لوگ زخمی ہوئے پہلے دھماکے کے بعد ہمارے جو ذاتی محافظین اور رشتہ دار تھے انھوں نے جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں ان کے بقول جو باقی حملہ آور تھے وہ گھر کے اندر داخل نہیں ہو سکے میر شفیق الرحمان مینگل کا دعویٰ تھا کہ ان کے محافظین کی جوابی کارروائی میں متعدد حملہ آور مارے گئے اور ان میں سے بعض زخمی حالت میں فرار ہو گئے ا±ن کا کہنا تھا کہ ’میری اطلاعات کے مطابق مارے جانے والے حملہ آوروں کی تعداد چھ ہے۔‘ تاہم سرکاری طور پر اس واقعے میں مرنے والوں کی تعداد نہیں بتائی گئی ہے میر شفیق الرحمان نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے ا±نھیں سکیورٹی فراہم کی گئی تھی اور اس حملے میں ان کی جانب سے جو لوگ مرے ان میں پانچ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں انھوں نے بتایا کہ ’یہ لوگ پہلے لیویز فورس میں تھے جو کہ بعد میں پولیس کا حصہ بن گئے اور یہ بھی ہمارے رشتہ دار اور علاقے کے لوگ تھے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ ظاہر سی بات ہے کہ ان کا ہدف میں ہی تھا لیکن ہمارے ساتھیوں کی دلیری کی وجہ سے وہ ناکام رہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!