اسلام آباد : پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ وہ آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے عوام سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور اگر مسلم لیگ (ن) کو حکومت بنانے کا موقع ملا تو آزاد کشمیر کا بجٹ 10 گنا بڑھایا جائے گا، جبکہ ریاست کو ترقی، خوشحالی اور جدید سہولیات کے حوالے سے ملک کے بہترین خطوں میں شامل کیا جائے گا۔ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے انتخابی مہم کے سلسلے میں مظفرآباد کے یونیورسٹی گراؤنڈ میں ایک بڑے عوامی جلسے کا انعقاد کیا گیا، جس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سمیت پارٹی کی مرکزی اور مقامی قیادت نے شرکت کی۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ کشمیر کے ساتھ ان کا تعلق محض سیاسی نہیں بلکہ دلی وابستگی کا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر انہیں اتنا ہی عزیز ہے جتنا پاکستان کا کوئی بھی دوسرا حصہ، اسی لیے وہ ریاست کی ترقی کو اپنی ترجیحات میں شامل سمجھتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مظفرآباد میں موٹروے جیسے بڑے ترقیاتی منصوبے کیوں نہیں بن سکے، جبکہ اس شہر کو پاکستان کے بہترین شہروں میں شمار ہونا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ دریائے جہلم کے ساتھ ساتھ جدید موٹروے تعمیر کی جانی چاہیے تاکہ آزاد کشمیر میں سیاحت، تجارت اور آمدورفت کے نئے مواقع پیدا ہوں۔ نواز شریف نے کہاکہ مظفرآباد آتے ہوئے انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے کہا کہ پنجاب میں جاری ترقیاتی اور عوامی فلاح کے منصوبوں کی طرز پر آزاد کشمیر میں بھی اسی رفتار سے کام ہونا چاہیے تاکہ ریاست کے عوام بھی جدید سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد نے ازراہِ مذاق کہاکہ اگر انتخابات میں عوام نے ان کی جماعت کو کامیاب کیا تو وہ وزیراعظم شہباز شریف سے کہیں گے کہ انہیں آزاد کشمیر کا وزیراعظم بنا دیا جائے تاکہ وہ خود ریاست کی ترقی کا مشن مکمل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بننے کے بعد آزاد کشمیر کے تمام اہم مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔ انہوں نے اعلان کیاکہ حکومت قائم ہونے کے بعد وہ ہر تین ماہ بعد آزاد کشمیر کا دورہ کریں گے تاکہ خود ترقیاتی منصوبوں اور انتخابی منشور پر عملدرآمد کا جائزہ لے سکیں اور عوام سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔ نواز شریف نے مزید اعلان کیا کہ آئندہ چند روز میں مظفرآباد کے لیے 10 گرین بسیں فراہم کی جائیں گی، جبکہ 15 موبائل اسپتال بھی اپنی خدمات کا آغاز کریں گے تاکہ شہریوں کو بہتر سفری اور طبی سہولیات میسر آ سکیں۔





