اسلام آباد:۔عوامی نیشنل پارٹی(اے این پی)کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ ملک شخصیات سے نہیں آئین سے چلتے ہیں، پاکستان کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کا واحد راستہ آئین پر مکمل اور بلاامتیاز عملدرآمد، آزاد اور شفاف انتخابات، پارلیمان کی بالادستی، اداروں کی آئینی حدود کی پاسداری اور قانون کی یکساں حکمرانی ہے، اٹھارویں آئینی ترمیم اور حقیقی وفاقیت پاکستان کی مضبوطی کی ضمانت ہیں، جبکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم، صوبائی خودمختاری اور مقامی حکومتوں کو اختیارات کی منتقلی وقت کی اہم ضرورت ہے، ماضی کی غلط پالیسیوں کا غیرجانبدارانہ احتساب کیا جائے ،دہشت گردی کے خلاف ریاست اور معاشرے کو متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا تاکہ دہشت گردوں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع نہ ملے، نوجوانوں کو معیاری تعلیم، روزگار اور سیاسی فیصلہ سازی میں حصہ دیا جائے، خواتین کو حقیقی قیادت کے مواقع فراہم کیے جائیں اور مذہبی اقلیتوں کے آئینی و شہری حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے،فوجی جوانوں، سرکاری ملازمین، سیاسی کارکنوں اور عام شہریوں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، پارٹی باچا خان کے عدم تشدد، جمہوریت، آئین کی بالادستی اور عوامی حقوق کے فلسفے کی امین ہے اور کارکن اسی نظریے کے تحت عوام کی خدمت اور حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتے رہیں گے،انہوں نے ان خیالات کا اظہار نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پارٹی کے چالیسویں یوم تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا اہتمام عوامی نیشنل پارٹی فیڈرل کیپیٹل اسلام آباد نے کیا تھا،تقریب میں پارٹی کے مرکزی صدرسینیٹرایمل ولی خان کے علاوہ، مرکزی جنرل سیکرٹری بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر سلیم خان، صوبائی صدر عبدالرحیم خان، اسلام آباد فیڈرل کیپیٹل کے صدر صدام خان سمیت مرکزی و صوبائی رہنماوں، عہدیداروں اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی،سینیٹر ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کی تنظیمی عمر اگرچہ 40 سال ہے، لیکن اس کی نظریاتی اور سیاسی جدوجہد تقریبا ایک صدی پر محیط خدائی خدمت گار تحریک کا تسلسل ہے،پارٹی کا 40واں یومِ تاسیس دراصل تجدیدِ عہد کا دن ہے، پارٹی نے ہمیشہ عدم تشدد، جمہوریت، آئین کی بالادستی، صوبائی خودمختاری، سماجی انصاف اور انسانی وقار کے اصولوں پر سیاست کی ہے، ایمل ولی خان نے دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی ایک بار پھر ملک کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے،آج پاکستان ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے،خیبر پختونخوا کی سرزمین کو کسی نئی جنگ کا میدان نہیں بننے دیں گے دہشت گردی میں اچھے اور برے کی تقسیم ختم ہونی چاہیے،دہشت گردی کے خلاف ریاست اور معاشرے کو متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، امن صرف آپریشن کا نام نہیں، امن تعلیم، روزگار، بااختیار پولیس اور انصاف کا مکمل بندوبست ہے، دہشت گردی کے خلاف ریاست اور معاشرے کو متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا،ان مسائل کا حل کسی ایک شخص یا ادارے کے پاس نہیں۔ حل آئین، پارلیمان اور شفاف جمہوری عمل میں ہے،انہوں نےافغانستان کے ساتھ باہمی احترام اور عدم مداخلت پر مبنی تعلقات، بلوچستان میں سیاسی مکالمے، انصاف اور عوامی اعتماد کی بحالی، کشمیر میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت، انسانی حقوق کے تحفظ اور گلگت بلتستان کو مکمل آئینی و سیاسی حقوق دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کےوسائل کے معاملے پر ہمارا موقف واضح ہےکہ گیس، معدنیات اور بڑے منصوبوں کا پہلا فائدہ مقامی لوگوں کو پانی، سکول، ہسپتال اور روزگار کی صورت میں ملنا چاہیے، دہشت گردی کا مقابلہ ریاست کی ذمہ داری ہے لیکن بلوچستان کے عوام کا اعتماد بحال کرنا اس سے بڑی قومی ذمہ داری ہے، کشمیر محض زمین کا تنازعہ نہیں بلکہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت اور انسانی وقار کا سوال ہے،مقبوضہ کشمیر میں جبر اور پابندیاں مسئلے کا حل نہیں۔ مسئلے کا پائیدار حل اقوام متحدہ کی قراردادوں، پرامن مذاکرات اور سب سے بڑھ کر کشمیری عوام کی آزاد مرضی سے ہی ممکن ہے،گلگت بلتستان کے عوام آئینی شناخت، قومی اسمبلی و سینٹ میں نمائندگی اور مالی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں،کشمیر کے بین الاقوامی تنازع کو متاثر کیے بغیر بھی گلگت بلتستان کو مکمل آئینی اور سیاسی حقوق دئیے جا سکتے ہیں۔ وہاں کے شہری بین الاقوامی حل کے انتظار میں بنیادی حقوق سے محروم نہیں رہ سکتے،انہوں نے مطالبہ کیا کہ احتساب سب کا ہونا چاہیے اور قانون کسی کے لیے ڈھال اور کسی کے لیے عذاب نہیں بننا چاہیے،ماضی کی غلط پالیسیوں کا غیرجانبدارانہ احتساب کیا جائے تاکہ دہشت گردوں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع نہ ملے۔اپنے خطاب میں انہوں نے معیشت، نوجوانوں، خواتین، اقلیتوں اور صحافت کے حوالے سے بھی پارٹی کا موقف پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو معیاری تعلیم، روزگار اور سیاسی فیصلہ سازی میں حصہ دیا جائے، خواتین کو حقیقی قیادت کے مواقع فراہم کیے جائیں اور مذہبی اقلیتوں کے آئینی و شہری حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے۔انہوں نے آزاد صحافت کو جمہوریت کا لازمی جزو قرار دیتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو سوال پوچھنے اور حقائق سامنے لانے کی آزادی حاصل ہونی چاہیے اور انہیں دباو، تشدد یا انتقامی کارروائیوں کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے،ہمیں دنیا کے ساتھ باوقار تعلقات چاہییں لیکن قومی خودمختاری اور عوامی مفاد کی قیمت پر نہیں،پارٹی باچا خان کے عدم تشدد، جمہوریت، آئین کی بالادستی اور عوامی حقوق کے فلسفے کی امین ہے اور کارکن اسی نظرئیے کے تحت عوام کی خدمت اور حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتے رہیں گے۔تقریب سے مرکزی جنرل سیکرٹری برگیڈیئر (ر)ڈاکٹرسلیم خان، صوبائی صدر عبدالرحیم خان، صدام خان، و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عدم تشدد، جمہوریت، آئین کی بالادستی، صوبائی خودمختاری، اٹھارویں ترمیم کے تحفظ، دہشت گردی کے خاتمے، عوامی حقوق اور پاکستان میں پائیدار امن، انصاف اور مساوات کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، اس موقع پر یومِ تاسیس کا کیک بھی کاٹا گیا۔






