لاہور ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ حکومت کی بدنیتی عوام کے سامنے آ چکی ہے،ان کا کہنا تھا کہ شہبازشریف 20 ماہ سے نیب کو جواب جمع کروا رہے ہیں، 70 روز ریمانڈ اور جوڈیشل کسٹڈی میں رہے لیکن ان کے خلاف کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکا،،انہوں نے سوال کیا کہ ’چھپن اسکیم اور صاف پانی اسکیم کا کیا ہوا آشیانہ کو کیا ہوا-ان کا کہنا تھا کہ ’شہبازشریف نے سب کچھ نیب کو دیدیا ہے اور بھی جو کچھ وہ مانگیں گے وہ بھی دیدیں گے نہوں نے مطالبہ کیا کہ ’نیب کیمرے لگا کر تفتیش کرے تاکہ حقائق عوام کے سامنے آئے جو شخص عوام کی خدمت کرتا رہا ہے اس کی تفتیش بھی عوام کے سامنے آنی چاہیے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ’نیب 20 سال سے بدنیتی سے کام کررہا ہے جس سے ملک کھوکھلا ہوگیا ہےان کا کہنا تھا کہ ’نیب چئیرمین بتائے 28 مئی کو گرفتاری کے وارنٹ کیوں نکالے تھے کیا نیب بدمعاشی کا اڈہ ہے انہوں نے کہا کہ ’احتساب عوام کے سامنے ہونا چاہیے‘۔
