بغداد میں امریکی سفارت خانے اور اربیل میں امریکی قونصل خانے نے ایک سکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے خطے میں موجود امریکی شہریوں کو مشرقِ وسطیٰ چھوڑنے کی تیاری کرنے کی ہدایات کی ہیں۔
امریکی سفارت خانے کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث سکیورٹی کی صورتحال بدستور پیچیدہ ہے اور اس کے غیر متوقع طور پر مزید بگڑنے کا امکان موجود ہے۔‘
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی فوج نے امریکہ پر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد کیا ہے۔
یہ بیان اُن امریکی میڈیا رپورٹس کے بعد آیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل رواں ہفتے ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف کارروائیوں کی تیاری کر رہے ہیں۔
امریکی سفارت خانے کی جانب سے سنیچر کو جاری بیان میں امریکی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتہائی احتیاط برتیں اور پروازوں کی منسوخی، فضائی حدود کی عارضی بندش اور دیگر سفری رکاوٹوں کے امکان کو مدِنظر رکھیں۔
سفارت خانے کے مطابق خطے میں بعض ایئرلائنز نے پروازوں کی بحالی کے منصوبے مؤخر کر دیے ہیں، جبکہ کچھ نے مخصوص روٹس پر اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’خطے میں موجود امریکی شہریوں کو وہاں سے روانگی پر غور کرنا چاہیے یا کشیدگی میں مزید اضافے کی صورت میں فوری انخلا کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
قاہرہ سمیت خطے کے مختلف دارالحکومتوں میں واقع امریکی سفارت خانوں نے اپنی ویب سائٹس پر تقریباً یکساں نوعیت کے پیغامات جاری کیے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ’ایرانی حکومت کا طرزِ عمل غیر متوقع ہے اور حالیہ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بغیر پیشگی انتباہ یا کسی واضح اشتعال انگیزی کے خطے میں مختلف مقامات کو نشانہ بنا سکتی ہے۔‘
ادھر اردن کے دارالحکومت عمان اور یروشلم میں امریکی سفارت خانوں نے بھی اسی نوعیت کے سکیورٹی الرٹس جاری کیے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران نے حملوں کے دائرہ کار کو اُن علاقوں تک بھی وسعت دی ہے جو ماضی میں اس کی کارروائیوں کا ہدف نہیں رہے تھے۔






