کوئٹہ (کوہ یار نیوز )وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور بلوچستان لازم و ملزوم ہیں تا قیامت قائم و دائم رہیں گے تشدد، سوشل میڈیا اور دہشت گردوں کی لیجیٹیمیٹ وائسز ریاست کے خلاف نفرت کو فروغ دے رہی ہیں انہی حربوں کے ذریعے ریاستِ پاکستان کو کمزور اور تقسیم کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں غیر متوازن ترقی تشدد کی بنیادی وجہ نہیں آج تربت اور بلوچستان کے کئی دیگر علاقے زیادہ ترقی یافتہ ہیں، کیا وہاں یہ نام نہاد تحریکیں ختم ہو گئی ہیں؟ ریاست مخالف عناصر پسماندگی کے خاتمے یا ترقی کے لیے نہیں بلکہ بندوق کے زور پر اپنا نظریہ مسلط کرنا چاہتے ہیں ریاست مخالف عناصر پاکستان کو کیک کی طرح ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں آئین پاکستان کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر قسم کے مذاکرات کےلئے تیار ہیں تاہم اگر کوئی ریاستِ پاکستان کو توڑنے کا سوچتا ہے تو ایسی سوچ پر کوئی بات چیت نہیں ہو سکتی ریاست ہر چیز سے مقدم ہے، قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتاریاستِ پاکستان کے لیے اپنی جان بھی نچھاور کرنے سے دریغ نہیں کریں گے گورننس سے متعلق شکایات اور تحفظات ہو سکتے ہیں، لیکن ریاست کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتامیرٹ پر مبنی نظام ہی نوجوانوں کا اعتماد بحال کرنے کا واحد مو¿ثر ذریعہ ہےآرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے مکمل میرٹ پر بھرتیوں کو یقینی بنایا جائے گا






