پیپلز پارٹی آئندہ ماہ بہاولپور ،ہزارہ کو صوبے بنانے کی آئینی ترمیم لائے گی‘محمد علی درانی کا دعویٰ

پیپلز پارٹی آئندہ ماہ بہاولپور ،ہزارہ کو صوبے بنانے کی آئینی ترمیم لائے گی‘محمد علی درانی کا دعویٰ

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

لاہور:سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے دعوی کیا ہے کہ پیپلز پارٹی آئندہ ماہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں آئینی ترمیم پیش کرنے جا رہی ہے جس کے تحت بہاولپور اور ہزارہ کو فوری طور پر نئے صوبے بنانے کی تجویز دی جائے گی،بہاولپور اور ہزارہ صوبوں کے قیام سے متعلق قراردادیں پہلے ہی صوبائی اسمبلیوں سے منظور ہو چکی ہیں اس لیے ان علاقوں کو پہلے صوبوں کا درجہ دینے سے نئے صوبوں کے قیام کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے جس کے بعد دیگر صوبوں کے قیام کی جانب پیشرفت کی جائے گی۔ایک انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ بہاولپور، جنوبی پنجاب اور ہزارہ صوبوں کے حوالے سے مسلم لیگ (ن)اور پیپلز پارٹی پہلے ہی توثیق کر چکی ہیں اس کے بعد ان دونوں جماعتوں کے پاس یہ کہنے کا کیا جواز ہے کہ نئے صوبے نہیں بننے دئیے جائیں گے،آئین کے تحت جو صوبے بننے ہیں وہ بنائے جائیں گے۔بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق سوال پر سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان مذاکرات تو کریں گے لیکن کوئی ڈیل نہیں کریں گے۔عمران خان کو اب بھی کوئی ڈیل نہیں کرنی تاہم حکومت کی طرف سے دی جانے والی ڈھیل ختم ہو چکی ہے،اس وقت عمران خان عوام میں مقبول ہیں اور پاکستان کے عوام کی یادداشت بہت اچھی ہے،جو شخص قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر لیتا ہے وہ عوام کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔حکومت کے مستقبل کے حوالے سے محمد علی درانی نے کہا کہ حکومت کے جانے کی چند نشانیاں ہوتی ہیں جن میں سے پہلی نشانی یہ ہوتی ہے کہ حکومت انتہائی درجے کی کرپشن شروع کر دیتی ہے ،دوسری نشانی یہ کہ وہ عوام پر ظلم کرنا شروع کر دیتی ہے جبکہ آخری نشانی عدلیہ سے لڑائی ہوتی ہے۔حکومت یہ تمام کام کر چکی ہے اور عدلیہ سے لڑائی بھی شروع کر دی ہے،حکومت نے اپنا سیاسی مقبرہ خود بنا لیا ہے تو اب ہم اس میں کیا کر سکتے ہیں۔مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے محمد علی درانی نے کہا کہ اللہ کرے مولانا فضل الرحمان ہمارے ساتھ رہیں اور حکومت کی طرف نہ جائیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مولانا فضل الرحمان عوام کے جذبات کے مطابق چلیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے