بلوچستان میں رابطہ سڑکوں کی بہتری کیلئے 88ارب سے زائد کے منصوبے ، وزارت منصوبہ بندی

بلوچستان میں رابطہ سڑکوں کی بہتری کیلئے 88ارب سے زائد کے منصوبے ، وزارت منصوبہ بندی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

اسلام آباد : بلوچستان میں آمدورفت اور باہمی رابطوں کو بہتر بنانے کے لیے 88 ارب روپے سے زائد مالیت کے پانچ بڑے سڑکوں کے منصوبوں کی منظوری کی سفارش کی گئی ہے۔ ان میں گوادر ایسٹ بے ایکسپریس وے کے دوسرے مرحلے کے علاوہ دور دراز اضلاع کو اہم شاہراہوں اور نقل و حمل کے راستوں سے ملانے والے منصوبے شامل ہیں۔وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کی اگست 2026 کی ماہانہ ترقیاتی رپورٹ کے مطابق مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی نے جولائی کے دوران 88 ارب 31 کروڑ 90 لاکھ روپے کی مجموعی لاگت والے ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے پانچ منصوبوں کو قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کو منظوری کے لیے بھجوانے کی سفارش کی۔ان منصوبوں میں سب سے بڑا گوادر ایسٹ بے ایکسپریس وے کے دوسرے مرحلے کا نظرثانی شدہ منصوبہ ہے جس کی لاگت 29 ارب 95 کروڑ 20 لاکھ روپے ہے۔ وزارتِ بحری امور کی جانب سے پیش کیے گئے اس منصوبے کو غور کے لیے قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کو بھیجنے کی سفارش کی گئی ہے۔ایک اور اہم منصوبہ درگئی شبوزئی سے تونسہ تک 103 کلومیٹر طویل سڑک کی تعمیر ہے جس کی نظرثانی شدہ لاگت 22 ارب 34 کروڑ 20 لاکھ روپے ہے۔ حکومت بلوچستان کی جانب سے پیش کیے گئے اس منصوبے کو بھی ایگزیکٹو کمیٹی کو منظوری کے لیے بھجوانے کی سفارش کی گئی۔منصوبوں میں گلی سے خاران تک 77 کلومیٹر طویل بلیڈہ، پروم سڑک بھی شامل ہے جس کی نظرثانی شدہ لاگت 9 ارب ایک کروڑ 10 لاکھ روپے ہے۔ اس کے علاوہ پروم سے چیدگئی تک 42 کلومیٹر سڑک کی لاگت 11 ارب 5 کروڑ روپے ہے۔ دونوں منصوبوں کی بھی منظوری کے لیے ایگزیکٹو کمیٹی کو سفارش کی گئی ہے۔پانچواں منصوبہ دالبندین، چاغی سڑک ہے جس کی نظرثانی شدہ لاگت 9 ارب 87 کروڑ 70 لاکھ روپے ہے۔ اس طرح ان پانچوں منصوبوں کی مجموعی لاگت 88 ارب 31 کروڑ 90 لاکھ روپے بنتی ہے۔ان منصوبوں کے علاوہ مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی نے زیارت موڑ، کچ، ہرنائی، سنجاوی سڑک کے نظرثانی شدہ منصوبے کی بھی ایک ارب 57 کروڑ 10 لاکھ روپے کی لاگت سے منظوری دی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد بھی بلوچستان کے اندر مختلف علاقوں کے درمیان رابطوں کو بہتر بنانا ہے۔ایک اور مجوزہ منصوبہ پروم سے جلگئی تک 118 کلومیٹر سڑک کی تعمیر، مخر کر دی گئی۔ دستاویز کے مطابق اس منصوبے کی تخمینی لاگت 21 ارب 15 کروڑ 20 لاکھ روپے ہے۔یہ سڑکوں کے منصوبے صوبے کے مختلف علاقوں پر مشتمل ہیں اور ان کا مقصد ایسے علاقوں میں آمدورفت بہتر بنانا ہے جہاں طویل فاصلے اور محدود سڑکوں کا بنیادی ڈھانچہ نقل و حرکت اور معاشی سرگرمیوں میں بڑی رکاوٹ ہیں۔وزارتِ منصوبہ بندی کے مطابق بلوچستان میں سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا اور گوادر ایسٹ بے ایکسپریس وے کے دوسرے مرحلے کے ذریعے علاقائی رابطوں کو مضبوط کرنا جولائی میں زیرِ غور آنے والے ٹرانسپورٹ منصوبوں کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔بہتر سڑک رابطوں سے دور دراز علاقوں کی آبادیوں کو منڈیوں اور عوامی سہولیات تک رسائی حاصل ہوگی جبکہ پیداواری مراکز، سرحدی علاقوں، شہری منڈیوں اور بندرگاہوں کے درمیان سامان کی نقل و حرکت بھی آسان ہوگی۔گوادر ایسٹ بے ایکسپریس وے کے دوسرے مرحلے کی شمولیت ان منصوبوں کو تجارت اور نقل و حمل کے حوالے سے بھی اہم بناتی ہے جبکہ دیگر سڑکوں کے منصوبوں کا بنیادی مقصد بلوچستان کے مختلف علاقوں کے اندرونی رابطوں کو مضبوط کرنا ہے۔88 ارب 31 کروڑ 90 لاکھ روپے کے یہ پانچوں منصوبے ابھی حتمی طور پر منظور نہیں ہوئے۔ مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کی سفارشات کے بعد ان منصوبوں کو عملی شکل دینے سے قبل قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے غور اور منظوری کی ضرورت ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے