معروف اینکر و تجزیہ کار ریحام خان نے کہا ہے کہ کراچی ملک کا سب سے اہم پورٹ سٹی اور اقتصادی اثاثہ ہے۔ تاہم انتظامی نااہلی اور اختیارات کی عدم منتقلی کے باعث یہ شہر اور پورا صوبہ تباہی کا شکار ہے۔ کراچی میں نئے انتظامی یونٹس، بلدیاتی نظام اور صوبائی ساخت کے موضوع پر منعقدہ ایک مباحثے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ریحام خان کا کہنا تھا کہ اس بحث کا آغاز کراچی سے اس لیے کیا گیا کیونکہ یہ ملک کی معیشت کی شہ رگ اور واحد پورٹ سٹی ہے۔ پشاور، لاہور یا مانسہرہ تک جانے والا ہر مال کراچی ہی سے گزرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران جنگ کے دوران دبئی کے بجائے پروازیں اور بحری جہاز کراچی ہی کی طرف موڑے جا رہے تھے۔ اس کے باوجود، کراچی سے سکھر تک شاہراہوں اور بنیادی ڈھانچے کی حالت ابتر ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کے کسی بڑے شہر یا خطے کے پاس کراچی جیسی بندرگاہ نہیں، مگر اس شہر کے صنعتی علاقوں بشمول سائٹ، کورنگی، مانسہرہ کالونی، بھینس کالونی اور مشرف کالونی کی حالتِ زار انتہائی افسوسناک ہے۔ سندھ حکومت کی کارکردگی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ریحام خان نے کہا کہ حکمران عوام کے نمائندے بننے کے بجائے ان پر راج کر رہے ہیں اور صوبے کو اپنی موروثی جائیداد سمجھ بیٹھے ہیں۔ یہاں تک کہ سندھ اسمبلی میں بھی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت کراچی کی آبادی کے نام پر بھاری رقم وصول کی جاتی ہے، مگر وہ نہ تو کراچی پر لگتی ہے اور نہ ہی دیہی سندھ، سکھر، مٹھی یا تھرپارکر کے غریب عوام پر خرچ کی جاتی ہے۔ تجزیہ کار نے سوال اٹھایا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان، جنوبی پنجاب اور ہزارہ میں تو نئے صوبوں کی حمایت کرتی ہے اور جنوبی پنجاب میں وزیراعلیٰ لانے کی تیاریاں بھی کرتی ہے، لیکن جب بات کراچی کی انتظامی بہتری یا نئے یونٹس کی آئے تو اسے ‘تقسیم’ کا رنگ دے کر خوف پھیلایا جاتا ہے۔






