کراچی :پاکستان رواں ماہ تیسری مرتبہ بھی ایل این جی کارگو خریدنے میں ناکام ہوگیا، تازہ ترین ٹینڈر میں کسی بھی عالمی کمپنی کی جانب سے بولی جمع نہ کرائے جانے کے باعث ایل این جی کی درآمد کا معاملہ ایک بار پھر تعطل کا شکار ہوگیا۔پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) کے ذرائع کے مطابق 12 سے 16 ستمبر کے دوران ترسیل کے لیے ایک ایل این جی کارگو کی خریداری کی غرض سے عالمی کمپنیوں سے بولیاں طلب کی گئی تھیں، جس کی آخری تاریخ 8 ستمبر مقرر تھی، تاہم مقررہ وقت تک کوئی بولی موصول نہیں ہوئی۔ذرائع کے مطابق یہ ستمبر کے دوران ایل این جی کارگو کی خریداری کے لیے جاری کیا جانے والا تیسرا ٹینڈر تھا۔ اس سے قبل جاری کیے گئے دونوں ٹینڈرز بھی مطلوبہ قیمت پر ایل این جی حاصل نہ ہونے کے باعث منسوخ کیے جاچکے ہیں۔پی ایل ایل کو 4 سے 8 ستمبر کی ترسیل کے لیے صرف ایک بولی موصول ہوئی تھی، جس میں ایل این جی کی قیمت 26.96 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ طلب کی گئی تھی۔ اسی طرح 8 سے 12 ستمبر کی ترسیل کے لیے 2 بولیاں موصول ہوئیں، جن میں پہلی 26.71 ڈالر اور دوسری 26.98 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ تھی۔ذرائع کے مطابق مذکورہ دونوں ٹینڈرز میں موصول ہونے والی بولیاں قیمت کے اعتبار سے انتہائی مہنگی ہونے کے باعث حکومت نے انہیں مسترد کردیا تھا۔تازہ ترین ٹینڈر میں کسی بھی عالمی سپلائر کی جانب سے بولی نہ آنے کے بعد پاکستان کے لیے ستمبر میں مطلوبہ ایل این جی کارگو کے حصول کا معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔ ایل این جی ملک میں بجلی کی پیداوار سمیت توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ذرائع کے مطابق عالمی مارکیٹ میں ایل این جی کی قیمتوں، سپلائی کی صورتحال اور دیگر عوامل کے باعث پاکستان کو کارگو کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ حکام کی جانب سے صورتحال کا جائزہ لیا جارہا ہے اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔تازہ ٹینڈر میں بولی نہ آنے اور اس سے قبل مہنگی بولیوں کے باعث 2 ٹینڈرز منسوخ ہونے کے بعد ایل این جی کی بروقت دستیابی اور بجلی کی پیداوار کے لیے گیس کی ضروریات پوری کرنا متعلقہ حکام کے لیے اہم چیلنج بن گیا ہے۔






