ڈھائی ڈھائی سالہ معاہدے کا علم نہیں،نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کرتے ہیں ، میر سرفراز بگٹی

ڈھائی ڈھائی سالہ معاہدے کا علم نہیں،نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کرتے ہیں ، میر سرفراز بگٹی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ : وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہاہے کہ بلوچستان میں آخری دہشت گرد کی موجودگی تک جنگ جاری رہے گی، دہشت گردی کے خلاف سول اور عسکری قیادت متفق اور یکسو ہےں اس معاملے پر کوئی ابہام یا کنفیوژن نہیں۔ نئے صوبوں کے قیام کی مشروط حمایت کرتے ہیں پہلے قومی اسمبلی میں اتفاق رائے قائم کیا جائے قومی اسمبلی میں اتفاق رائے ہو جائے تو صوبائی اسمبلی بھی تیار ہے۔ اگر صوبے بنتے ہیں تو لسانی نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر بننے چاہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں قومی میڈیا کے اینکرز، سینئر صحافیوں اور دیگر نمائندوں سے ویڈیو لنک کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبے کی مجموعی صورتحال، ترقیاتی عمل، معدنیات و کان کنی، امن و امان، سیاسی معاملات اور حکومتی اقدامات سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس سے قبل وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں صوبے کے سماجی و اقتصادی شعبوں، معدنیات و کان کنی اور امن و امان سے متعلق اہم بریفنگز بھی منعقد ہوئیں، جن میں صوبائی حکومت کی حکمت عملی، جاری منصوبوں اور عوام کو فراہم کیے جانے والے ثمرات کا جائزہ لیا گیا۔ وزارتِ منصوبہ بندی و ترقی کی بریفنگ میں صوبائی حکومت کی سماجی و اقتصادی شعبوں سے متعلق حکمتِ عملی، گورننس، سروس ڈیلیوری، ترقیاتی فنڈز کے موثر استعمال اور ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔ وزارتِ معدنیات و وسائل کی بریفنگ میں بلوچستان میں معدنیات اور کان کنی کے شعبے کی استعداد، جاری منصوبوں اور اس شعبے کی ترقی کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ میں بتایا گیا کہ معدنی وسائل کو بہتر انداز میں بروئے کار لا کر صوبے کے عوام کے لیے معاشی اور دیگر فوائد پیدا کرنے کے اقدامات جاری ہیں۔ وزارتِ داخلہ و قبائلی امور کی جانب سے امن و امان کی صورتحال، پروونشل ایکشن پلان، پولیس اصلاحات اور لیویز فورس کے پولیس میں انضمام سے متعلق پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے سیف سٹی منصوبے، قانون سازی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان موثر ہم آہنگی کے حوالے سے بھی وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا گیا۔ وزارتی بریفنگز کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن ہوا، جس میں قومی میڈیا کے نمائندوں نے صوبے کی مجموعی صورتحال، امن و امان، ترقی، سیاسی معاملات اور دیگر اہم امور سے متعلق سوالات کیے۔ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے صوبائی حکومت کے موقف اور پالیسی ترجیحات کی وضاحت کی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز مشکل حالات میں فرائض انجام دے رہی ہیںدہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاستی ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں سے کسی صورت بات چیت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سے بیٹھ کر پورے صوبے کو کنٹرول کرنا ممکن نہیں بلوچستان میں اگر نئے صوبے بنتے ہیں تو لسانی نہیں انتظامی بنیادوں پر بننے چاہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں کسی ڈھائی ڈھائی سالہ حکومتی معاہدے کا انہیں علم نہیں۔ حکومت میں تبدیلی کا فیصلہ سیاسی قیادت نے کرنا ہے، تاہم جب تک وہ منصب پر ہیں عوام کی خدمت جاری رکھیں گے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ کرپشن کے مکمل خاتمے کا دعویٰ نہیں کرسکتا، تاہم بلوچستان میں ماضی کے مقابلے میں کرپشن میں کمی ضرور آئی ہے۔ تعلیمی اداروں سمیت تمام سرکاری محکموں میں میرٹ پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کو ماضی کے مقابلے میں ریکارڈ مدت میں مکمل کیا گیا ہے اور صوبائی حکومت کی توجہ ترقیاتی عمل کو موثر، نتیجہ خیز اور عوامی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے پر مرکوز ہے وزیراعلیٰ نے غیر ملکی شہریوں کی واپسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان سے 11 لاکھ افغان مہاجرین سمیت دیگر غیر ملکیوں کو ان کے وطن واپس بھیجا گیا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس مسئلے کو قومی میڈیا اور دیگر فورمز پر کبھی کبھار درست تناظر کے بغیر بھی پیش کیا جاتا رہا ہے، جس سے صورتحال کی درست تصویر سامنے نہیں آتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کسی ایک صوبے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے اور اس کے خاتمے کے لیے قومی سطح پر مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ریاست کے خلاف جس نے بندوق اٹھائی ان سے کسی صورت بات چیت نہیں ہوگی۔ان نوجوانوں کو ضرور قائل کریں گے جو دشمنوں کے بہکاوے میں آرہے ہیںپنجاب کی وزیراعلی کا ہمسائے صوبوں کے حوالے سے بیان پردکھ ہوا۔ہم پاکستان کے لئے پنجاب سندھ اور کے پی کے کی جنگ بھی لڑرہے ہیں اللہ نہ کرے پنجاب کو ہماری طرح دشت گردی کا سامنا کرنا پڑے۔بلوچستان میں سابق افغان فورسز کے لوگوں کی موجودگی ضرور تھی لیکن اب وہ کم ہوگئی ہے سابقہ افغان فورسز کو یہاں پناہ دے کر اپنے لئے درد سر نہیں بنانا چاہتے۔بلوچستان میں ماضی کے مقابلے میں ترقیاتی کاموں کو ریکارڈ مدت میں مکمل کیاجس کے ثمرات عوام تک پہنچ رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے