مستونگ کے علاقے ببری میں گزشتہ روز پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے متاثرہ خاتون کے سسرالی خاندان نے میڈیا پر سامنے آنے والی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے واقعے کی اصل حقیقت سامنے لانے اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔۔۔
خاتون کے سسرالی رشتہ داروں نے قرآن پاک ہاتھوں میں اٹھا کر سراوان پریس کلب مستونگ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ خاتون گزشتہ تقریباً چھ سال سے مرگی کے مرض میں مبتلا ہے اور اس کا باقاعدگی سے علاج جاری ہے۔ ان کے مطابق خاتون کے علاج سے متعلق ایف سی ہسپتال سمیت دیگر طبی دستاویزات بھی ان کے پاس موجود ہیں، جنہیں ضرورت پڑنے پر متعلقہ حکام کے سامنے پیش کیا جاسکتا ہے۔۔۔*
پریس کانفرنس میں خاندان کے افراد نے مؤقف اختیار کیا کہ واقعے کے روز خاتون گھر میں سالن تیار کر رہی تھی کہ اچانک اسے مرگی کا دورہ پڑا۔ اس وقت گھر میں کوئی مرد موجود نہیں تھا، جس پر گھر میں موجود خواتین نے اسے فوری طور پر اٹھا کر ڈاکٹر کے پاس پہنچایا۔ ان کے بقول واقعے کے دوران خاتون کے چہرے کا ایک حصہ آگ سے متاثر ہوا، جس پر ڈاکٹر نے ابتدائی طبی امداد اور ادویات تجویز کیں اور جلد کے جھلسنے کو اس کی وجہ قرار دیا۔*
خاندان کا کہنا تھا کہ واقعے کو تیزاب گردی سے جوڑنا حقائق کے منافی اور ان کے بقول بے بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چھ سال سے خاتون کے علاج معالجے پر اس کا شوہر اپنی آمدن خرچ کرتا چلا آرہا ہے، ایسے میں خاندان کو اس واقعے سے متعلق سامنے آنے والی خبروں سے شدید دکھ اور تشویش ہوئی ہے۔۔۔انہوں نے کہا کہ ہم نے چھ سال تک اپنی مریضہ کا علاج کرایا، اس کی دیکھ بھال کی، لیکن آج ہمارے ہی خاندان کو ایک ایسے الزام کا سامنا ہے جس نے ہماری عزت اور ساکھ کو متاثر کیا ہے۔ خاندان نے مطالبہ کیا کہ معاملے کو قیاس آرائیوں اور سوشل میڈیا کی خبروں کے بجائے طبی شواہد اور حقائق کی بنیاد پر دیکھا جائے۔۔۔*
*پریس کانفرنس کے دوران خاندان کے افراد نے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سے اپیل کی کہ واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے غیرجانبدارانہ، شفاف اور مکمل تحقیقات کرائی جائیں، طبی ریکارڈ اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا جائے اور اگر خاندان کا موقف درست ثابت ہو تو انہیں بے بنیاد الزامات سے انصاف دلایا جائے۔*
*انہوں نے کہا کہ وہ کسی بھی غیرجانبدارانہ تحقیقات اور قانونی عمل میں مکمل تعاون کے لیے تیار ہیں اور چاہتے ہیں کہ حقیقت سامنے آئے تاکہ نہ صرف متاثرہ خاتون بلکہ دونوں خاندانوں کے ساتھ انصاف ہوسکے۔






