وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ اس وقت پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے، اس لیے حکومت اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان جاری لفظی جنگ ختم ہونی چاہیے۔ دونوں جانب سے بیان بازی کا سلسلہ رکنا ملک اور سیاست دونوں کے مفاد میں ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ایک دوسرے کی فطری سیاسی مخالف جماعتیں ہیں اور ان کے درمیان فاصلے کم ہونا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر داخلہ محسن نقوی کے بارے میں بعض ریمارکس دیے تھے، جن کے جواب میں حکومتی شخصیات کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آیا۔ رانا ثنااللہ کے مطابق حکومت اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان اس طرح کی بیان بازی ملک اور سیاست کے مفاد میں نہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب پاکستان دہشتگردی کے خلاف اہم جنگ لڑ رہا ہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کی پس پردہ ملاقاتوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی بھی بیک ڈور ملاقاتیں کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پس پردہ رابطوں اور بات چیت کا سلسلہ علی امین گنڈاپور کے دور میں بھی جاری تھا اور ان کے بعد بھی یہ ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔ رانا ثنااللہ نے سہیل آفریدی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک طرف یہ کہتے تھے کہ عشق میں مارے جائیں گے، لیکن دوسری جانب پس پردہ ملاقاتیں بھی کرتے رہے۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقاتوں کے معاملے پر رانا ثنااللہ نے کہا کہ بعض افراد نے ان ملاقاتوں کا غلط استعمال کیا، جس کے بعد ملاقاتوں پر پابندی عائد کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بیرسٹر سیف نے حال ہی میں جو باتیں کی ہیں، وہ پہلے ہی سب کے علم میں تھیں اور انہوں نے صرف ان کی تصدیق کی ہے۔ رانا ثنااللہ کے مطابق بیرسٹر سیف ان افراد میں شامل ہیں جنہوں نے عمران خان سے ہونے والی ملاقاتوں کا غلط استعمال نہیں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کو بیرسٹر سیف پر کس حد تک اعتماد ہے، اس حوالے سے متضاد اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ وزیراعظم کے مشیر نے بیرسٹر سلمان صفدر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا شمار بھی ایسے افراد میں ہوتا ہے جنہوں نے عمران خان سے ملاقاتوں کا غلط استعمال نہیں کیا۔ رانا ثنااللہ نے جے یو آئی اور پی ٹی آئی کے سیاسی تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان بنیادی نوعیت کے سیاسی اختلافات موجود ہیں، اس لیے ان کے فاصلے کم نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان پی ٹی آئی کے اپوزیشن لیڈر نہیں بن سکتے۔ رانا ثنااللہ نے ایک بار پھر زور دیا کہ موجودہ حالات میں حکومت اور مولانا فضل الرحمان کو بیان بازی سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران سیاسی محاذ آرائی میں کمی ملک کے مفاد میں ہے۔




