خاران : بی این پی کے رہنما ایم پی اے خاران ثنا بلوچ نے کہا ہے کہ ڈنک واقعہ تاریخ کے بدترین واقعات میں سے ایک ہے اور اس واقعہ میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے بی این پی کے مرکزی رہنما واجہ ثنا بلوچ خاران کے سول سوسائٹی کو ڈنک واقع کے خلاف کامیاب ریلی نکالنے پر مبارک بادیتے ہوئے کہا کہ خاران کے ہمارے نوجوان بزرگ اور ماں بہنیوں نے اج کے تاریخی ریلی سے ثابت کیا کہ بلوچستان کے کسی بھی کونے میں بسنے والے مظلوموں کی تکلیف ہم سب کی تکلیف ہے بلوچستان اب مزید خونریزی اور کلاشنکوف کلچر کا متحمل نہیں ہوسکتا صوبائی حکومت کی اس افسوس ناک واقع پر خاموشی بلوچستان کے مظلوم عوام کی زخموں پر نشتر چلانے کے مترادف ہے بلوچستان کے ماں بہنوں کی آواز آپ کی خاموشی سے مزید گونجے گی جب .تک کہ واقعہ میں زخمی برمش اور اُس کی شہید ماں کو انصاف نہ ملے. انہوں نے کہا کئی دن گزرنے کے باوجود سرکار مختلف حیلے بہانے سے کام لے کر ٹال مٹول سے کام کر رہی ہے اور واقعہ کے اہم ملزمان اور مرکزی کردار ادا کرنے والے مجرم گرفتار نہیں ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سرکار نامی کوئی چیز نہیں ہے .بلوچ عوام اب چوروں اور ڈاکووں کے خوف اور غنڈا راج کو برداشت نہیں کرسکتے ۔ انہوں نے کہا کہ نامزد ملزمان کو گرفتار کرکے برمش اور اُن کی شہید ماں کو انصاف دی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی اس طرح کے جرائم کرنے سے پہلے سو بار سوچے .اگرریاست کے زمہ داروں نے اس سلسلہ کو نہیں روکا تو بلوچستان میں اس طرح کے مزید واقعات ہونگے.اگر بلوچ سماج میں خواتین کا گھر سے نکلنے کو براسمجھا جاتا ہے تو بلوچ سماج میں گھر کی چادر و چاردیواری کو پامال کرکے گھروں کے اندر خواتین کو گولیاں مار کر اُن کے زیورات کو چھیننا بھی بلوچ سماج کے خلاف ہے. ایسا نہ ہو کہ ہمیں اس طرح کسی اور واقعہ کاسامنا کرنا پڑے.چوری ڈکیتی کرکے گھروں پر حملہ کرنا اور بچوں کو یرغمال کرنا کہاں کی انسانیت ہے.برمش واقعہ نے بلوچ قوم کو ظلم اور بربریت سے نجات کے لیے متحد ہوکر آواز اٹھانے کے لیے بیدار کیا ہے. چوروں اور ڈاکووں کی کوئی طاقت نہیں اور نہ ہی کسی بلوچ کے چادر و چاردیواری کے تقدس کو پامال کرنا اتنا اسان کہ کوئی ڈاکوو جاکر ہماری ماں بہنوں کو گولیوں سے چھلنی کرے. ہماری زمہ داری ہے کہ ہم سول سوسائٹی کے پلیٹ فارم سے متحد ہوکر بلوچ سماج کو ایک بہتر سماج بنانے میں اپناکردار ادا کریں..ڈنک کے واقعہ میں بہادر بیٹی ناز ملک نے چوروں،ڈاکووں اور امن دشمن قوتوں کی گولیوں کواپنے سینے میں ٹھنڈا کرکے حکومت وقت کو یہ پیغام دیا کہ اب مسلح چور ڈاکوو اور بندوق برداروں کیلئے ہم.آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے.انہوں نے کہا کہ ڈنک میں حملہ کرنے والے بھی وہی ہیں جن کو بلوچستان کی امن برداشت نہیں ہوتی. بلوچستان میں دانستہ طور پر بدامنی پھیلانے کے بعد اب گھروں میں خواتین کو گولیاں مار کر اُن کو قتل کیا جارہا ہے.ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے یہاں قاتل بنائے جا رہے ہیں اور یہی قاتل دن دیہاڑے معصوم شہریوں کو قتل کرکے اُنہیں زیورات اور دیگر قیمتی چیزوں سے محروم کر رہے ہیں.انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کو پھیلانے والے نا معلوم نہیں بلکہ نا معلوم کے نام کے پیچھے سب کو اُن کی اصلیت کا پتہ ہے.اگر برمش پر حملہ کے خلاف ہمارے عوام نے خاموشی اختیار کی تو اس طرح کے مزید واقعات ہونگے گھروں پر حملہ کرکے ہماری خواتین کو قتل کی جارہی ہے. بلوچ نسل کے خاتمے کیلئے اب مختلف طریقوں سے بہانے بنائے جارہے ہیں.افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کچھ لوگ اس ملک کے جھنڈا لگا کر عوام کو تنگ کرنے والے ہمارے ریاست کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں. جو لوگ اس ملک کا جھنڈا لگا کر دہشت گردی پھیلا رہے ہیں وہ اس ملک کےدوست نہیں ہو سکتے. برمش کی ماں نے اپنی جان کی قربانی دے کر بلوچستان کے عوام کو ایک پیغام دیا ہے کہ اب بلوچستان میں مزید قتل و غارت کو برداشت نہیں کیا جائے گا.بلوچ خواتین پر ہونے والی ظلم کے خلاف اب مزید چھپ نہیں رہیں گے.
