مستونگ ،500 کے قریب معذوران انتہائی  کسمپرسی کے زندگی بسر کرنے پر مجبور

مستونگ ،500 کے قریب معذوران انتہائی کسمپرسی کے زندگی بسر کرنے پر مجبور

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

مستونگ( نامہ نگار) اسپیشل پرسن ارگنائزیشن کے ضلعی آرگنائزر غلام حسین اطہر ڈپٹی آرگنائزر خالد حسین محمد دین شاہوانی اور راشد آحمد نے سراوان پریس کلب میں پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ هے کہ حکومت و ضلعی انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث مستونگ کے 500 کے قریب معذوران انتہائی کسمپرسی کے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں انھوں نے کہا کہ ضلع کے ایجوکیشن ہیلتھ پی ایچ ای بی اینڈ آر سمیت مختلف محکموں میں مسقل اور عارضی بنیادوں پر من پسند بھرتیوں کا سلسلہ جاری ہے۔انھوں نے کہا کہ حالانکہ قانونی طور پر آسامیوں میں 5 پرسنٹ اسپشل پرسنز کے لیےمختص ہونے کے باوجود مستونگ میں ہمیں ہماری قانونی حق سے یکسر محروم کیا گیا ہے۔۔انھوں نے کہا کہ حکام کی عدم توجہی کے باعث غریب اور مستحق معذوران نان شبینہ کے لیے محتاج ہیں انھوں نے کہا کہ کرونا وائرس سے متاثرہ اور غیر متاثرہ من پسند افراد میں ضلعی انتظامیہ نے ہزراوں لوگوں میں راشن اور دیگر امدادی سامان تقسیم کیا لیکن معزروں کو اس میں بھی یکسر نظر انداز کیا گیا انھوں نے کہا کہ دانستہ طور پر معاشرے کی اس کمزور اور لاچار طبقے کے حقوق غضب کیے جارہے ہیں اسپشل پرسنز آرگنائزیشن کے عہداران نے کہا کہ جب بھی ہم اپنے مسائل اور حقوق کےیے ضلعی آفیسران کے آفس جاتے ہے تو ہم سے ملاقات درکنار آفیسران اور انکی متعلقہ عملہ ہمیں دھکہ دے کر نکال دیتے ہیں اور ہمارے ساتھ انتہائی سخت ناشائستہ رویہ اختیار کرتے ہے جوکہ سمجھ سے بالاتر اور قابل مزمت عمل ہےانھوں نے کہا کہ معزروں کے لیے ویل چیر اور ٹرائی موٹرسائکل اور راشن کے لیے کئی بار ڈسٹرکٹ سوشل ویلفیئر آفیسر کے پاس بھی گئے لیکن اس نے بھی ہماری مسائل کو حل کرنے پر توجہ دینے کی زحمت نہیں کی انھوں نے کہا کہ ہم ڈپٹی کمشنر مستونگ سے اپیل کرتے ہے کہ مختلف محکموں میں معزروں کی کوٹہ پر بھرتیوں کی عمل میں پانچ پرسنٹ کی حساب سے ہمارے بے روزگار ایم اے اور بی اے پاس معزروں کی تعیناتی کو یقنی بنانے کے ساتھ وزیر اعظم کے حساس پروگرام کے تحت ہماری مالی معاونت اورراشن کی تقسیم کاری میں ہمیں ہماری قانونی حق فراہم کرنے کے لیے اقدامات کرےاور ضلعی آفیسران کی جانب سے ہمارے ساتھ نا شائستہ رویہ کا نوٹس لیں انھوں نے کہا ہم اپنے حقوق کو مزید پامال ہونے پر خاموشی اختیار نہیں کرینگے اپنے حق کے لیے عدالت عدلیہ کا دروازہ کٹکھٹانے پر مجبور ہو نگے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!