اسلام آباد:پیپلزپارٹی قیادت پر جنسی ہراسگی کے الزامات لگانے والی امریکی شہری سنتھیارچی نے الزام لگایا ہے کہ رحمان ملک نے ورک ویزہ دینے میں سہولت کے لئے بلاکر نشہ آور مشروب پلا کر میرا ریپ کیا،میں نے پیپلزپارٹی کو ٹھگوں کی جماعت پایا ہے۔رحمان ملک نے تحفے کے طور پر دئیے گئے موبائل فون سے میری جاسوسی کی۔ہر عدالت میں تحقیقات کا سامنا کرنے کو تیار ہوں۔محترمہ بے نظیر بھٹو کا احترام کرتی ہوں۔اتوار کے روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وی لاگر سنتھیارچی نے کہا کہ معاملے کو اس وقت اس لئے سامنے لے کر آئی کیونکہ مجھے کئی سالوں سے پیپلزپارٹی کے لوگ دھمکیاں دے رہے تھے۔پیپلزپارٹی نے خود مجھے2010ءمیں پاکستان آنے کی دعوت دی۔میںنے وزیر صحت مخدوم شہاب الدین کے ساتھ کام کیا جو اس وقت کے وزیر اعظم کو براہ راست رپورٹ کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ شروع کے چند ماہ اچھے گزرے۔وزارت صحت نے مجھے رہائش کی سہولت دی تھی۔میں بہت سے سٹوڈنٹس کو لیکچرز دیتی تھی بعد ازاں مشکوک حالت میں مجھ سے جنسی زیادتی کی گئی اور اگر اس طرح کی زیادتی ملک کے سب سے طاقتور شخص کی طرف سے ہو تو کوئی یقین نہیں کرتا۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے ہراساں کیے جانے کا واقعہ اسامہ بن لادن کے واقعے کے بعد کی بات ہے، میں اس معاملے پر ایک لمبے عرصے تک خاموش رہی تاہم جب میں نے انکشافات کیے تو خطرناک دھمکیاں دی گئیں۔انہوں نے کہا کہ میرے اہل خانہ میرے پاکستان آنے پر پریشان تھے، میں یہ سب کچھ انہیں بتا کرمزید پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔مجھے مخدوم شہاب الدین بہت دلچسپ انسان لگے مگرانہوں نے میرے ساتھ نازیبا حرکات کی تھیں۔انہوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن کے واقعے کے بعد ورک ویزہ کیلئے مجھے وزیر داخلہ کی مدد کی ضرورت تھی جس کے لیے رحمان ملک سے رابطہ کیا۔میری رحمان ملک سے جان پہچان وفاقی وزیرصحت کے توسط سے ہوئی تھی، انہوں نے ہی مجھے منسٹرانکلیو بلایا تاہم جب میں وہاں وپہنچی تو سب کچھ میری توقع کےخلاف تھا۔سنتھیا رچی نے مزید کہا کہ مجھ سے سوال کیا گیا کس این جی او کے ساتھ کام کررہی ہو، پھرکہا گیا این جی اومیں مسائل ہو رہے ہیں اس کو چھوڑ دو۔ان کا کہنا تھا کہ اعظم سواتی کی بیٹی این جی او کو چلا رہی تھی،اس وقت اندازہ ہوا کہ پیپلزپارٹی مجھے پی ٹی آئی سے دور رکھنا چاہتی ہے کیونکہ مجھے رحمان ملک نے واضح طور پر کہا این جی او چھوڑ دو، انہوں نے 2 ہزار پاوَنڈ دیئے اور کہا اس سے اپنے خرچ پورے کرو۔انہوں نے مزید کہا کہ ملاقات کے دوران ڈرنک پیتے ہوئے میراسر چکرانا شروع ہوگیا، زیادتی کے بعد بھی رحمان ملک کے 2 ہزارپاوَنڈ اپنے پاس رکھے، ڈرائیور نے تمام چیزیں گاڑی میں رکھیں،جس میں 2 ہزارپاوَنڈزبھی تھے۔سنتھیا رچی نے کہا کہ 2015 سے پاکستان کا مثبت بیانیہ پیش کرنے کی کوشش کررہی ہوں، میں نے نیکٹا ، سی ٹی ڈی اورکے پی آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ پراجیکٹس پر کام کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی کو ایک جمہوری پارٹی کے بجائے ٹھگوں کی جماعت پایا ہے اور ایم کیو ایم کو پیپلزپارٹی سے بہتر جماعت سمجھتی ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ میرا مقصد بے نظیر بھٹو کی تضحیک کرنا نہیں تھا، میں گزرے ہوئے لوگوں کے بارے میں منفی گفتگوکرنا اچھا نہیں سمجھتی مگر پیپلزپارٹی کے سینئرلیڈرزنے بتایا تھا کہ وہ بے نظیر بھٹو سے خوفزدہ رہا کرتے تھے






