سال 2020 کا پہلا سورج  گرہن

سال 2020 کا پہلا سورج گرہن

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

ملک بھر میں آج حلقہ نما (اینولر) سورج گرہن کا مشاہدہ کیا گیا جسے عرف عام میں آگ کا دائرہ (رنگ آف فائر) بھی کہا جاتا ہے۔اس قسم کے سورج گرہن میں چاند، سورج اور زمین کے درمیان سے گزرتے ہوئے سورج کے سامنے اس طرح آجاتا ہے کہ زمین پر رہنے والوں کے لیے سورج کا وسطی حصہ چھپ جاتا ہے اور صرف کنارے سے دائرے کی شکل میں روشنی کا حلقہ نظر آتا ہے۔سورج گرہن کے موقع پر ملک بھر کی متعدد مساجد میں خصوصی طور پر نماز کسوف کا اہتمام کیا گیا۔خیال رہے کہ رواں سال 4 چاند گرہن اور 2 سورج گرہن دیکھے جائیں گے اور دوسرا سوج گرہن 14 دسمبر کو ہوگا جو پاکستان میں نظر نہیں آئے گا تاہم سال کے 2 چاند گرہن رونما ہوچکے ہیں جو 5-6 جون اور 10 جون کو پاکستان میں بھی دیکھے گئے تھے۔ملک بھر میں یہ جزوی سورج گرہن 2 سے 3 گھنٹے تک دیکھا گیا، پاکستان کے علاوہ چین، شمالی بھارت اور افریقہ کے کچھ حصوں بھی بھی اس کا نظارا کیا گیا۔
سورج کو گرہن لگنا صبح 8 بج کر 46 منٹ پر شروع ہوا جو دوپہر 2 بج کر 34 منٹ پر ختم ہوا جبکہ 11 بج کر 40 منٹ پر یہ اپنے عروج پر رہا۔
سندھ کے شہر سکھر میں صبح 11 بج کر 7 منٹ پر سورج تقریباً 98.78 فیصد چھپ گیا جبکہ گوادر میں صبح 10 بج 48 منٹ پر سورج 97.8 فیصد چھپا ہوا دکھائی دیا۔
سورج گرہن کو کن علاقوں میں کس وقت دیکھا گیا اور نقطہ عروج کس وقت رہا یہ تفصیل مندرجہ ذیل ہے:
اسلام آباد: صبح 9 بج کر 50 منٹ سے دوپہر ایک بج کر 36 منٹ (نقطہ عروج 11 بج کر 25 منٹ)
کراچی: صبح 9 بج کر 26 منٹ سے دوپہر 12 بج کر 46 منٹ (نقطہ عروج 10 بج کر 59 منٹ)
لاہور: صبح 9 بج کر 50 منٹ سے دوپہر 12 بج کر 36 منٹ (نقطہ عروج 11 بج کر 25 منٹ)
پشاور: صبح 9 بج کر 48 منٹ سے دوپہر ایک بج کر 2 منٹ (نقطہ عروج 11 بج کر 21 منٹ)
کوئٹہ: صبح 9 بج کر 35 منٹ سے دوپہر 12 بج کر 49 منٹ (نقطہ عروج 11 بج کر 6 منٹ)
گلت بلتستان: صبح 9 بج کر 56 منٹ سے دوپہر ایک بج کر 8 منٹ (نقطہ عروج 11 بج کر 30 منٹ)
آزاد کشمیر: صبح 9 بج کر 26 منٹ سے دوپہر ایک بج کر 7 منٹ (نقطہ عروج 11 بج کر 26 منٹ)
وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے عوام کو براہِ راست آنکھ سے سورج گرہن دیکھنے پر متنبہ کیا کیوں کہ اس سے آنکھوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔انکا کہنا تھا کہ اگر آپ آنکھ سے سورج گرہن دیکھیں گے تو اس سے ’آپ کی آنکھوں کو سخت نقصان پہنچ سکتا ہے اور آپ نابینا بھی ہوسکتے ہیں، اس لیے خاص قسم کے چشمے (ایکلپس گلاسز) یا سورج کے فلٹر سے جزوی سورج گرہن دیکھا جاسکتا ہے اور اس سلسلے میں دھوپ کے چشمے (سن گلاسز) کارآمد نہیں ہیں‘۔وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا کہ نیشنل ایرو ناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن (ناسا) کے مطابق کسی قسم کے دھوپ کے چشمے، کلر فلم، ایکسرے فلم، اسموکڈ گلاسز اور فلاپی ڈسک کو سورج گرہن کے مشاہدے کے لیے ہر گز استعمال نہ کیا جائے-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!