امریکی خلائی ادارے ‘ناسا’ کے مطابق 12 اگست کو دو سال کے وقفے کے بعد ایک بار پھر مکمل سورج گرہن دیکھنے میں آئے گا، تاہم اس نایاب مظہر سے لطف اندوز ہونے کا موقع دنیا کے صرف چند ممالک کے باسیوں کو ہی میسر آئے گا۔
ناسا کے مطابق مکمل سورج گرہن صرف گرین لینڈ، آئس لینڈ، اسپین کے شمالی علاقوں اور پرتگال کے ایک کونے میں ہی دیکھا جا سکے گا۔ ان میں سے اسپین کا نظارہ سب سے زیادہ منفرد ہوگا کیونکہ وہاں یہ گرہن عین سورج غروب ہونے کے وقت پیش آئے گا، جسے ماہرین فلکیات ایک ’مسحور کن‘ منظر قرار دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ یورپ کے بیشتر ممالک اور شمالی افریقا کے متعدد خطوں کے مکین جزوی سورج گرہن کا نظارہ کر سکیں گے۔
روس میں ایک ہی دن 2 انوکھے مناظر
روس کو اس حوالے سے خاص اہمیت حاصل ہوگی، جہاں سورج طلوع اور غروب دونوں اوقات میں جزوی گرہن دیکھا جا سکے گا۔روس کے غیر آباد علاقے ’طیمیر جزیرہ نما‘ میں گرہن کا آغاز سورج طلوع ہوتے ہی ہوگا، جبکہ ملک کے دوسرے سرے پر یہ نظارہ سورج غروب ہونے کے بعد دکھائی دے گا۔ ماہرین کے مطابق سورج غروب کے وقت گرہن کا پیش آنا ایک نادر مظہر ہے، جو کئی برسوں بعد دیکھنے میں آتا ہے، اور یہی اس بار کے گرہن کی اصل خاصیت ہے۔
پاکستانی وقت کے مطابق شیڈول
پاکستانی وقت کے اعتبار سے 12 اگست کی رات جزوی سورج گرہن کا آغاز 10 بج کر 34 منٹ پر ہوگا، مکمل گرہن رات 12 بج کر 12 منٹ پر عروج پر پہنچے گا، جبکہ یہ سلسلہ رات 2 بج کر 58 منٹ پر اختتام پذیر ہوگا۔






