تربت(نمائند: بلال بہار) نیشنل پارٹی کےمرکزی صدر اور سابق وزیراعلی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اپنی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان حکومت کرونا وائرس کو مزاق سمجھ رہی ہے۔ صوبائی حکومت کی نااہلی کے سبب کرونا وائرس صوبہ بھرمیں پھیل گئی یے، اگرصوبے میں مکمل لاک ڈائون نہ کی گئی تو اموات کی شرح بڑھ سکتی ہے۔ کیونکہ کرونا وائرس معمولی نہیں عالمی وبا ہے جس کی تدارک کا واحد ذریعہ احتیاطی تدابیر اور مکمل لاک ڈائون ہے۔پورے صوبے میں صرف کوئٹہ میں ٹیسٹ کی سہولت موجود ہے باقی تمام اضلاع میں ٹسٹ کی سہولت ہی موجودنہیں ہے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ صوبائی حکومت تمام اضلاع یا ڈویژنل ہیڈکوارٹر میں پی سی آر مشین، موبائل لیبارٹری ،کرونا وائرس کی حفاظتی سامان اور دیگرسہولیات مہیا کرے۔حکومت ہسپتالوں میں ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے فوری اقدامات اُٹھائیں۔ انہوں نے مزیدکہاکہ ضلع کیچ میں آئسو لیشن وارڈزغیرفعال ہیں، تاحال کوئی وینٹی لیٹرز فراہم نہیں کی گئ ہیں حال ہی میں وینٹی لیٹر کے نام پر تربت میں BIPAP لائے گئےہیں. انہوں نےکہاکہ صوبائی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے تربت میں اب تک 7 سینیئر ڈاکٹرز اور ان کے فیملی کروناوائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ تربت میں صرف 423 افراد کی سمپلنگ کی گئی جن میں 71 پازیٹیو کیس سامنے آئے ہیں۔جس کی شرح 18 فیصد بنتی ہے۔ ضلع کیچ کی 9 لاکھ کی آبادی ہے اس حساب سے متاثرہ افراد کی تعدادِ میں ہوشربااضافہ ہوسکتی ہے۔
نامناسب اقدامات کے سبب تربت میں کوروناوائرس سے ہلاک ہونےوالے مشتبہ مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے. حکومت فوری طورپر لاک ڈائون کرے، ہر اضلاع یا ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں پی سی آر مشین، وینٹی لیٹرز سمیت تمام حفاظتی سامان پہنچانے کے ساتھ ڈاکٹروں کی تحفظ کو بھی یقینی بنائے۔ ہسپتالوں میں ایس او پیز پر عملدرآمد کے علاوہ عوام سے اپیل ہے کہ اپنی حفاظت کی خاطر بغیر ضرورت باہر نہ نکلیں، سنیٹائزر اور ماسک کا استعمال لازمی کریں اور ہاتھ ہمشیہ دھوتے رہیں۔
