پنجگور
بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی جوائنٹ سکیرٹری میر نزیر احمد بلوچ نے کہا کہ صوبائی حکومت کی نااہلی پنجگور انتظامیہ اور محکمہ صحت کی غفلت کے باعث ضلع پنجگور کروناوائرس کا گڈھ بن گیا ہے احتاطی تدابیر کی فقدان اے سو پیز پر عمل درامد نہ ہونے سے پنجگور کا ہر گھر ہر شہر کروناوائرس کا شکار بن گیا ہے کروناوائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باوجود محکمہ صحت پنجگور اور یہاں کے انتظامیہ نے خاموشی اختیار کرکے عوام کے زندگیوں سے کھلواڈ کرریے ہیں انہوں نے کہا کہ پنجگور بلوچستان کا واحد ضلع ہے جہاں کوئی صحت کی سہولت موجود نہیں ہے ملک میں عالمی وباء کے تیزی سے اثرات کے باوجود پنجگور میں نہ کروناوائرس کی حفاظت کیلئے کیٹس موجود نہ ٹیسٹنگ کی سہولت دستیاب ہے ڈاکٹر مریض کو دیکھتے ہی غائب ہوجاتا اور مریض ڈاکٹر کو دور سے دیکھ کر بھاگ جاتا ہے جس کی وجہ سے کروناوائرس تیزی سے پھیل کر ہر شہر اور گھر میں داخل ہوچکی ہے صحت کی سہولتوں کی عدم دستابی سے روزانہ پنجگور دو سے تین مریض کرونا کا شکار بن کے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ہم جنازہ پڑھا کہ تھک چکے ہیں لیکن بلوچستان حکومت پنجگور انتظامیہ اور محکمہ صحت کے ضلعی افیسروں کے کانوں تک جوں تک نہیں رینگتی ہے پنجگور ہسپتالوں کا یہ حال ہے پنجگور کے بڑے سرکاری ہسپتال میں اکسیجن سلنڈر پیناڈول کی گولی اور مریض کو مطمئین کرنے کیلئے ایک ڈرپ تک دستیاب نہیں ہے ایک نااہل ضلعی ناظم صحت کو تین عہدوں ڈی ایچ او ایم ایس اور ای این ٹی کا عہدہ دیکر صرف سرکاری ہسپتالوں کی او پی ڈی کے مد میں نکلنے والی پیسوں کو جمع کرنے کی شمہ داری سونپی گئی ہے انھیں ہسپتالوں کی سہولت اور عوام کی طبی ضرورتوں سے کوئی سروکار نہیں ہے انہوں نے کہا کہ ضلع پنجگور صحت کے اعتبار سے بلوچستان کے بدترین ضلعوں میں شمار ہوتا ہے اب جبکہ کروناوائرس نے اس ضلع کو مقتل گاہ میں تبدیل کردیا ہے اگر فوری طور پر کروناوائرس کی تدارک کیلئے سخت اقدامات اور صحت کی سہولتیں کی فراہمی یقینی نہ بںایا گیا تو صوبائی حکومت محکمہ صحت پنجگور اور انتظامیہ کروناوائرس کی پھلاؤ میں برابر کا شریک ہونگ
