بلوچستان ہائیکورٹ، 10 ویں قومی مالیاتی کمیشن کی تشکیل کالعدم قرار

بلوچستان ہائیکورٹ، 10 ویں قومی مالیاتی کمیشن کی تشکیل کالعدم قرار

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ( اسٹاف رپورٹر+ نیوز ایجنسیاں) بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس نذیراحمد لانگو پرمشتمل بینچ نے این ایف سی کی تشکیل سے متعلق وفاقی حکومت کا 12 مئی 2020 ءکو جاری کردہ نوٹیفکیشن کوکالعدم قرار دے دیا۔ صدرمملکت کے ٹرمز آف ریفرنس ،مشیرخزانہ کی بطورممبراور وفاقی سیکرٹری خزانہ کی بطور اقتصادی ماہر تقرری کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ گورنر بلوچستان صوبائی حکومت کی سفارش پر نیا ممبر نامزدکریں۔یہ حکامات گزشتہ روز 10ویں قومی مالیاتی کمیشن سے متعلق دائر متفرق درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے دیا۔سماعت کے دوران درخواست گزاران کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ ،ساجد ترین ایڈووکیٹ ،راحب بلیدی ایڈووکیٹ ،ڈپٹی اٹارنی جنرل غلام مصطفی بزدار اورسید اقبال شاہ ایڈووکیٹ ،ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان ارباب محمدطاہرایڈووکیٹ اور اے اے جی شے حق بلوچ پیش ہوئے ۔عدالت نے این ایف سی کی تشکیل سے متعلق درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے متعلقہ نوٹی فیکیشن کو کالعدم قرار دے دیا،بلوچستان ہائی کورٹ نے صدر مملکت کی جانب سے این ایف سی ایوارڈ کیلئے بنائے گئے ٹی او آرز اورمشیر خزانہ حفیظ شیخ، وفاقی سیکرٹری خزانہ کی این ایف سی کے اراکین کے طور پر تعیناتیاں بھی کالعدم قرار دے دیں ہیں عدالت نے ریمارکس دیئے ہیں کہ این ایف سی کے لئے ممبران کی تقر ری اور قواعد و ضوابط آئین کے مطابق نہیں ہوئی، گورنر بلوچستان صوبائی حکومت کی سفارش پر نیا ممبر نامزدکریں ، جبکہ حکومت این ایف سی ایوارڈ کی تشکیل اور بعدازاں اقدامات کو آرٹیکل 160 کی روح کے مطابق رکھے، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی سیکرٹری خزانہ بھی آئین کی روح سے این ایف سی کے رکن نہیں بن سکتے لہذا صدر مملکت کی جانب سے انکی تعیناتی بھی غیر آئینی ہے البتہ وفاقی سیکرٹری خزانہ اور صوبائی سیکرٹریز اپنی حکومتوں اور متعلقہ وزراتوں کی اس معاملے میں معاونت ضرور کر سکتے ہیں فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 160کے تحت این ایف سی کے کام کرنے کی شرائط وضع ہیں لہذا اس آرٹیکل سے متصادم کوئی بھی حکم غیر قانونی اور غیر آئینی ہے ،صدر مملکت اور این ایف سی پابند ہیں کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین پر عملدآمد کریں، فیصلے میں وفاق اور صوبوں کو حکم دیاگیا ہے کہ وہ فیڈریشن کی مضبوطی کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کریں نہ کہ وفاق یا صوبے اپنے لئے زیادہ سے زیادہ حصے لینے کی تگ و دو کریں فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ 18ویں ترمیم کے بعد بہت سے محکمے صوبوں کے پاس چلے گئے ہیں جس سے صوبائی اخراجات میں اضافہ ہوا ہے لیکن جی ڈی پی کم ہونے اور وفاقی و صوبائی حکومت کے اخراجات میں غیر حقیقی اضافے بھی ہوا ہے تاہم وفاقی اور صوبائی حکومتیں مالی نظم وضبط دیکھانے میں ناکام رہی ہیں جس سے اداروں اور محکموں کے نقصانات میں اضافہ ہوا ہے اگر ایسی وفاقی حکومت صوبوں کے حصے سے اپنے اخراجات چلائے گئی تو یہ ناپختہ فیصلہ ہوگا ،فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل160(3A) کے تحت صوبوں کا این ایف سی میں حصہ کم نہیں کیا جاسکتا لہذا وفاقی حکومت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ڈویزبل پول کے ذرےعے ریونیو بڑھانے کے لئے طریقہ کار وضع کرےگی ساتھ ہی مالی نظم و ضبط سے ریاستی اداروں کو ہونے والے نقصانات پر بھی قابو پائےگی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!