لسبیلہ یونیورسٹی کے اکیڈمک اسٹاف ایسوسیشن کے ترجمان نے اپنے مزاحمتی بیان میں کہا ہے کہ لسبیلہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی غلط رویہ،منفی سوچ،انتقامی کاروائی اور تعلیم دشمنی پالیسیاں خاص طور پر اکیڈمک اسٹاف ایسوسیشن کے صدر اور دیگر ملازمین کے خلاف اپنے کاسہ لیس ڈین اور حواریوں کے زریعے نشانہ بنانا انکے خلاف سوشل میڈیا کے توسط سے کردار کشی عروج پر ہے یہ ہتھکنڈے اس وقت استعمال کرتے ہیں جب کوئی ملازم ان کی کرپشن اقرباء پروری اور چوری کو اجاگر کرتاہے ۔جسکی واضح مثال لسبیلہ یونیورسٹی ڈیرہ مراد جمالی کیمپس کی سنگ بنیاد کی تقریب کی گورنر بلوچستان کی عدم شرکت کی وجہ سے منسوخی کے بعد یونیورسٹی کے اکاؤنٹ سے 30 لاکھ کے قریب تقریب کے مد میں پیسہ نکلوا کر ہڑپ کرنا روز کا معمول بن چکا ہے ۔ملک میں وبائی مرض کے باعث تمام تعلیمی ادارے بند ہونےکے سبب پیسہ نکلوا کر خرچ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے ۔ جسکی وجہ سے اساتذہ کرام،ملازمین ، اسٹوڈنٹس اور یونیورسٹی کی مستقبل داو پر لگ گیا ہے ۔ اساتذہ کرام وائس چانسلر کی متعصبانہ رویہ کی وجہ سے یونیورسٹی چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں ۔جو کہ اس پسماندہ صوبہ بلوچستان کے عوام کے ساتھ سنگین جرم اور ناانصافی ہے ۔وائس چانسلر کی متعصبانہ رویہ اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملازمین کو آپس میں دست و گریباں کرنے میں مصروف عمل ہے جس سے یونیورسٹی ملازمین شدید ذہنی کوفت میں مبتلا ہے اور اس عمل کا نقصان طلباء کی تعلیمی ماحول پر اثر انداز ہو رہا ہے۔اس شدید ذہنی دباؤ اور گھٹن کے ماحول میں نہ کوئی درس و تدریس اور تحقیقی عمل منتقی انجام کو پہنچ رہا ہے نہ کوئی طلباء مستفید ہو رہا ہے ۔ یہ سب عمل وائس چانسلر کی تعلیم دشمن اور طلباء کی مستقبل سے کھیلنے کی گھناؤنی سازش ہے ۔وائس چانسلر صاحب پتہ نہیں کس بیرونی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے جو کہ تمام تعلیمی عمل کو سبوتاژ کر رہےہیں ۔
