کوئٹہ (پ ر) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسیٰ بلوچ ، پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے ممبر غلام نبی مری نے بلوچستان صوبائی اسمبلی کے سامنے بولان میڈیکل کالج بحالی تحریک کے احتجاجی کیمپ میں جا کر پارٹی کی جانب سے اظہار یکجہتی کی اور ان کے جائز مطالبات کو درست قرار دیتے ہوئے فوری طور پر حل کرنے کا مطالبہ کیاانہوں نے کوئٹہ میں طلباءو طالبات ، صحافیوں کے گرفتاری کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی احتجاجی کیمپ میں بیٹھے ایپکا ، طلباء، اور ڈاکٹرز و دیگر محنت کشوں سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسیٰ بلوچ ، مرکزی کمیٹی کے ممبر غلام نبی مری اور بحالی تحریک کے چیئرمین حاجی عبداللہ صافی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی این پی نے ہمیشہ صوبے میں ملازمین کے ساتھ روا رکھے گئے حکمرانوں کے ناروا پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے سیاسی و جمہوری انداز میں ہر سطح پر آواز بلند کی کیونکہ ہماری جدوجہد کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ ہم ملازمین اور دیگر شعبہ زندگی کے ساتھ روا رکھے گئے ناانصافیوں پر آواز بلند کرتے ہوئے ارباب و اختیار کی توجہ مبذول کرائیں کہ ان کے جائز مطالبات کو فوری طور پر حل کرایا جائے بی ایم سی ملازمین گزشتہ 8ماہ سے اپنے مسائل کے حل کیلئے سراپا احتجاج ہیں لیکن حکمرانوں نے ان ملازمین کے مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے ٹھس و مس نہیں ہو رہے اور بی ایم سی کالج سابق پوزیشن کو ختم کر نے سے 1400سے لگ بھگ ملازمین شدید مسائل و ذہنی کوفت سے دوچار ہیں انہیں کالج سے نکال کر دوسرے ادارے کے حوالے کیا جا رہا ہے امکان یہی ہے کہ انہیں پرائیویٹز کر دیا جائے گا اور ان کے بنیادی مسائل اہمیت نہیں دی جائے گی انہوں نے کہا کہ کالج کو یونیورسٹی میں بدل کر پرائیویٹ ادارے کی طرز پر چلانے کی کوشش کی جا راہی ہے سیلف فنانس کے تحت جو فیس رکھی جا رہی ہے انہیں صوبے کے غریب و طلباءدینے سے قاصر ہیں کیونکہ فیس جس انداز میں بڑھائے جا رہے ہیں اس پالیسی کے نتیجے میں یہاں کے غریب طلباءپر تعلیم کے دروازے بند کرنے کا منصوبہ ہے اسے کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائےگا سابقہ حکمرانوں نے 2017ءمیں مسلط پسندی کے تحت ایسا ایکٹ لاگو کیا جس سے تمام اختیارات وزیراعلیٰ کے بجائے گورنر کو شفٹ کر دیئے گئے جو آئین و قانون کی خلاف ورزی ہے ملک کے دیگر صوبوں میں جامعات کا اختیارات ان صوبوں کے وزراعلیٰ کے پاس ہیں لیکن بلوچستان میں جامعات کا اختیارات گورنر کے حوالے کر کے سابقہ نام نہاد قوم پرست پارٹیوں نے صوبے کو تعلیم لحاظ سے نقصان پہنچایا انہوں نے کہا کہ بی این پی نے ہمیشہ محنت کشوں کی جدوجہد میں بھرپور انداز میں کردار ادا کیا ہے کسی بھی صورت میں یہاں کے محنت کشوں ، طلباءو طالبات اور ڈاکٹرز حضرات کو ناانصافیوں میں تنہا نہیں چھوڑا آئین و قانون کے برخلاف پالیسیوں کے خلاف خاموش اختیار نہیں کریںگے ہماری جدوجہد کا مقصد صوبے کے تمام شعبہ ہائے زندگی کے افراد کے اجتماعی مفادات کا حل ، تحفظ فراہم کرنا ہے ان کی بنیادی جدوجہد کیلئے ہر سطح پر آواز بلند کریں گے انہوں نے مطالبہ کیا کہ بولان میڈیکل کالج کے ملازمین کے مسائل کو حل کیا جائے اور تعلیمی ادارے کو پرائیویٹ آئز کرنے کی بجائے سابقہ حالت میں برقرار رکھاجائے اس موقع پر تحریک کے وائس چیئرمین ڈاکٹر الیاس بلوچ ، جنرل سیکرٹری ڈاکز زیب شاہوانی ، ڈاکٹر اعجاز بلوچ ، ڈاکٹر محب اللہ ، ڈاکٹر باسط شاہ و دیگر بھی موجود تھے ۔
