ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر قلات کی بے جا الزامات ، زبان پر پٹی اور ہاتھوں میں زنجیر باندھ کر انوکھا احتجاج

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر قلات کی بے جا الزامات ، زبان پر پٹی اور ہاتھوں میں زنجیر باندھ کر انوکھا احتجاج

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

قلات:انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان قلات ڈویژن کے صدر و سماجی رہنما خلیل شادیزئی کی جانب سے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر قلات کے بے جا الزامات کے خلاف شاہی بازار قلات میں کیمپ لگاکر احتجاج پر بیٹھ گئے۔ زبان پر پٹی اور ہاتھوں میں زنجیر باندھ کر انوکھا احتجاج کیا۔ اس موقع پر کیمپ میں سیاسی سماجی و مذہبی رہنماوں نے آکر اظہار یکجہتی کی۔احتجاج پر بھیٹے انسانی حقوق کمیشن کے رہنما خلیل شادیزئی نے میڈیا سے گفتگو و اظہار یکجہتی والوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک سماجی کارکن ہوں گزشتہ کئی سالوں سے انسانیت کی خدمت کررہا ہوں گزشتہ دنوں نیشنل ہائی وے روڈ پر ایکسیڈنٹ ہوا تھا جس کا سن کر میں ان متاثرین کی داد رسی کے لئے سول اسپتال پہنچا تو ایک ایمبولینس میں دو شدید زخمیوں کو ایک ساتھ بھٹا کر کوئٹہ ریفر کر رہے تھے تو میں نے اسٹریچر اور تکیہ کا ڈاکٹروں کو ریکویسٹ کیا تو وہاں پر موجود ڈی ایچ او قلات ڈاکٹر نسیم لانگو نے مجھ پر بے جا الزامات لگا کر مجھے بلیک میلر کہا اس کی وجہ سے میرا عزت نفس سب کے سامنے مجروح ہوا میں ایک سماجی کارکن ہوں آج تک میں نے کوئی غلط کام یا بلیک میلنگ نہیں کی ہے بلکہ میں نے بطور سماجی کارکن انسانیت کی خدمت کی ہے اور کرتا رہونگا قلات کے عوام مجھ پر ٹرسٹ کرتے ہیں اور مجھے چھوٹا عبدالستار ایدھی کہتے ہے حالانکہ وہ عظیم شخصیت تھ انکی جگہ میں تو نہیں لے سکتا تاہم میری خدمت انسانیت کی۔خدمت ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈی ایچ او قلات کےالزامات کی وجہ سے میرا معاشرے میں عزت نفس مجروح ہوا ہے ڈی ایچ او ڈاکٹر نسیم لانگو الزامات ثابت کریں وگرنہ میں عدالت سے رجوع کرکے 2 کروڑ کا ہرجانہ داخل کرونگا اور دو کروڑ سے سول اسپتال قلات میں ادویات بے سہارا مریضوں کے علاج پر خرچ کرونگا اگر مجھے انصاف نہ ملا تو لاہور کے پروفیسر کی طرح سرعام چوک پر خود سوزی کرونگا اس کا ذمہ دار بے جا الزامات لگانے والے معاشرے پر ہوگا اس موقع پر آل پارٹیز کے رہنماں سمیت سیاسی سماجی انسانی حقوق کے کارکنوں طلبہ تنظیموں نے خلیل شادیزئی سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!