نوشکی :جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی ترجمان و سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسئلے کو صرف بلوچستان کا مسئلہ سمجھا جائے گا تو قیامت تک حل نہیں ہوگا، بلوچستان کے مسئلے کو پاکستان کا مسئلہ سمجھا اور تصور کیا جائے،وفاقی حکومت بلوچستان کے مسائل حل نہیں کرنا چاہتی یا ان کے پاس اختیار ہی نہیں ہیں۔ وہ گذشتہ روز ایک نجی چینل پر بلوچستان کے مسئلے پر ہونے والے خصوصی پروگرام میں گفتگو کررہے تھے۔ سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے گفتگو کرتے ہوئے مزیدکہا کہ بلوچستان کے مسئلے کو جب تک ہم بلوچستان کا مسئلہ سمجھ کر حل کرنے کی بات کریں گے تو قیامت تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا جس دن بلوچستان کے مسئلے کو پاکستان کا مسئلہ سمجھا جائے گا اور پاکستان کا مسئلہ تصور کیا جائے گا تو یہ مسئلہ ہی نہیں رہے گا، انہوں نے کہا کہ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش )کن وجوہات اورعوامل کی بنا پرہم سے جدا ہوا اگر ہم آج بھی اس پرغور کریں اورسوچیں تو شایدآج بلوچستان کی صورتحال مختلف ہوتی، انہوں نے کہا کہ بی این پی کا دوسال پہلے تحریک انصاف کے ساتھ 6 نکاتی معاہدہ ہوا تھا جس میں مسنگ پرسنزسمیت دیگر مسائل شامل تھے جن لوگوں نے تحریک انصاف کے ساتھ معاہدہ کیا تھا کیا وہ ہمیں بتا سکتے ہیں کہ کیا تحریک انصاف مسائل حل کرنا نہیں چاہتی یا ان کے پاس مسائل کو حل کرنے کا اختیار ہی نہیں؟ انہوں نے کہا کہ بی این پی کے ساتھ تحریک انصاف نے مسنگ پرسنز کے حوالے سے جو معاہدہ کیا تھا اس معاہدے کو پورا کرنے کے لیے نہ عمران خان کے پاس اختیارات ہیں نہ ہی صدر مملکت عارف علوی کے پاس اور نہ ہی پارلیمنٹ کے پاس ہیں، بلوچستان میں 5 ہزار کے قریب مسنگ پرسنز ہیں جن میں سے 400 کے قریب لوگ واپس ہوئے تو اس سے زیادہ لوگوں کو اٹھا لیا گیا اس لیے ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارے پاس اقتدار تو آجاتا ہے مگر اختیارات کسی اور پاس ہوتے ہیں۔
