کوئٹہ( اسٹاف رپورٹر) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر سے متعلق حکومتی رکن کے نامناسب ریمارکس پر ایوان میں ہنگامہ ،اپوزیشن رکن کی جانب سے سینی ٹائزر پھینکنے پرسپیکر کا اظہار برہمی رکن کے تین روز تک اجلاسوں میں شرکت پر پابندی عائد کردی ،صوبائی وزیر کے کیخلاف کاروائی نہ ہونے پر اپوزیشن اراکین ایوان سے واک اوٹ کرگئےحکومتی اور اپوزیشن اراکین میں تند وتیزاور تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا ۔ جمعے کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے دوران جب ضمنی بجٹ سے متعلق مطالبات زر ایوان میں پیش کئے جارہے تھے اس موقع پر صوبائی مشیرملک نعیم بازئی کی جانب سے قائد حزب اختلاف ملک سکندر ایڈووکیٹ سے متعلق نامناسب ریمارکس پر اپوزیشن ارکان نے شدید ردعمل کااظہار کیا اس موقع پر ملک نصیر شاہوانی اوراخترحسین لانگو نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کے بارے میں کوئی نازیبا ریمارکس برداشت نہیں کئے جائیں گے اگرقائد حزب اختلاف کے ایسے ریمارکس دیئے جائیں گے تو پھر حکومتی ارکان کے بارے میں بھی ایسے ریمارکس آئیں گے، ملک نصیر شاہوانی نے کہا کہ جب اختر حسین لانگو نے وزیراعلیٰ سے متعلق ریمارکس دیئے تو ہم وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ گئے اور وزیراعلیٰ سے نہ صرف معذرت کی بلکہ ان سے یہ بھی کہا کہ اگر وہ چاہیں تو ہم ان کے گھر بھی جانے کے لئے تیار ہیں ہم نے انہیں یقین دلایا کہ اختر حسین لانگو نے نادانستگی میں ریمارکس پاس کئے تاہم وزیراعلیٰ نے معاملے کو رفع دفع کیا ہم تمام ارکان منتخب ہو کر یہاں آئے ہیں کوئی حکومت میں ہویا اپوزیشن میں سب کی حیثیت برابر ہے قائد حزب اختلاف کے بارے میں ریمارکس واپس لئے اورمعذرت کی جائے ۔ اس موقع پر صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور بلیدی اور اے این پی کے پارلیمانی لیڈر اصغرخان اچکزئی نے حکومت کی جانب سے اپوزیشن ارکان سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ہم حکومتی رکن کی جانب سے اپوزیشن لیڈر سے متعلق ریمارکس پر معذرت خواہ ہیں تاہم اس موقع پر اختر حسین لانگو اور ملک نصیر شاہوانی نے موقف اختیار کیا کہ وزیر داخلہ بھی اپنے ریمارکس پر معافی مانگیں جس پر سپیکر نے کہا کہ وزیر خزانہ اوراے این پی کے پارلیمانی لیڈر معذرت کرچکے ہیں تاہم اس موقع پر اپوزیشن ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے بجٹ کی کاپیاں پھاڑ کر پھینک دیں اسی دوران بلوچستان نیشنل پارٹی کے میر اکبر مینگل نے سینی ٹائزر بھی اٹھا کر حکومتی بینچوں کی جانب اچھال دی اور ایوان سے باہر چلے گئے تاہم سپیکر عبدالقدوس بزنجو نے اس کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ احتجاج تمام ارکان کا حق ہے، انہوںنے اپنے موقف کا اظہار بھی کیا اور بجٹ کی کاپیاں بھی پھینکیں سینی ٹائزر کی بوتل پھینکنے سے ایوان کا استحقاق مجروح ہوا انہوںنے ایوان کی رائے سے اکبر مینگل کے تین روز تک اسمبلی اجلاسوں میں شرکت پر پابندی عائد کرنے کی رولنگ دی اس موقع پر اپوزیشن اراکین نے وزیر داخلہ میر ضیاءلانگو کے خلاف بھی تادیبی کارروائی کا مطالبہ کیا تاہم سپیکر نے اپوزیشن اراکین کو یقین دہانی کرائی کہ آڈیو ویڈیوریکارڈ طلب کرکے فوٹیج دیکھنے کے بعد اس پر فیصلہ کیا جائے گابعد ازاں اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے کہا کہ میں نے اجلاس کی ریکارڈنگ سنی ہے مگر شور میں الفاظ سمجھ نہیں آرہے ہیں ،وزیر داخلہ کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر اپوزیشن اراکین ایوان سے واک اوٹ کرگئے
