چمن :عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر و صوبائی پارلیمانی لیڈر اصغرخان اچکزئی نے کہا ہے کہ سرحدی تجارت سے ہمارے غریب عوام کے گھروں کے چولہے جلتے ہیں ہم عوام کے سلگتے مسائل سے کسی بھی قسم کی چشم پوشی نہیں کرسکتے ہم اپنے عوام کے اعتماد کے مقابلے میں حکومت، عہدوں اور پروٹوکول کو ایک ذرہ برابر بھی اہمیت نہیںدیتے ، گورنر ، وزیراعلی اور دیگر صوبائی حکام سے بات ہوچکی ہے وفاق سے بھی دوٹوک انداز میں بات کی جارہی ہے میں پرامید ہوں کہ جلد ہی سرحدی بندشیں ختم ہوں گی اورمعاشی و تجارتی سرگرمیاں بحال ہوں گی عوام اعتماد رکھیںتاریخ گواہ ہے کہ پشتونوں نے جب بھی اتحاد واتفاق کا مظاہرہ کیا ہے اپنے ہدف تک ضرور پہنچے ہیں وہ جماعتیں جو چمن کے تاریخی عوامی دھرنے میںشریک نہیں ، ان سے گلہ نہ کریں البتہ انہیں قائل کرنے کی کوشش ضرور کی جائے کہ بطور ذمہ دار سیاسی جماعتوں کے ان کا قول اور فعل تاریخ کا حصہ بن رہا ہے ۔ ا ن خیالات کااظہار انہوںنے چمن شہر میں جاری احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اصغرخان اچکزئی جب دھرنے میں پہنچے تو ان کاپرتپاک استقبال کیا اور خیرمقدم کیاگیا ۔ اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر اتحادی جماعتوں کے رہنماں ،تاجروں اور عوام کی ایک بڑی تعداد موجود تھی ۔اپنے خطاب میں اصغرخان اچکزئی نے دھرنے کے شرکااور منتظمین کوخراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج اس تاریخی اتحاد واتفاق کو دیکھ کر مجھے ازحد خوشی ہورہی ہے تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پشتونوں نے جب بھی کسی مسئلے پر اتحادو اتفاق کا مظاہرہ کیا اورمشترکہ جدوجہد کی انہیں ضرورکامیابی ملی اور وہ اپنے ہدف تک پہنچنے میںکامیاب ہوئے ہیں پشتونوں کو اس وقت جو بھی مسائل درپیش ہیں ان کے حل کے لئے واحد راستہ اتحاد واتفاق کا ہی ہے اتحاد واتفاق ہی مسائل سے نجات کا ذریعہ ہے ۔ انہوںنے کہا کہ سرحد کی بند ش اور معاشی و تجارتی سرگرمیوں پر پابندی کے خلاف ہم نے ہر فورم پر موثر آواز اٹھائی ہے اسمبلی کے اندر اور اسمبلی کے باہر ہم نے ہمیشہ اپنے عوام کے اجتماعی مفادات کے لئے کام کیا گورنر ، وزیرعلی اور اس صوبے کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان سے ہماری تفصیلا نشستیں ہوئی ہیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ جلد بارڈر کے اس مسئلے پر جس سے عام آدمی سخت متاثر ہے وفاق سے حتمی بات کی جائے گی میں پرامید ہوں کہ انشااللہ ہماری یہ کوششیں رنگ لائیں گی اور جلد ہی چمن کے عوام کو خوشخبری ملے گی انہوںنے کہا کہ چمن کے عام غریب اولس کے تجارتی اور کاروباری کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے ہم نے پہلے بھی فعال کردار ادا کیا ہے آج بھی ہم صف اول میں موجود رہیں گے اور آنے والے کل میں بھی ہم اپنے فرائض سے منہ نہیں موڑیں گے بلکہ صف اول میں موجود رہیں گے کیونکہ ہم نے ہمیشہ اجتماعی عوامی مفادات کو اہمیت دی ہے اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہم اس اہم ترین عوامی مسئلے پر چپ رہیں گے تو یہ ان کی بھول ہے کیونکہ ہم اپنے عوام کے اعتماد کے مقابلے میں حکومت، عہدوں اور پروٹوکول کو ایک ذرہ برابر بھی اہمیت نہیںدیتے ۔انہوںنے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب قبائل اہم ترین عوامی مسئلے پر حل کررہے ہیں بعض لوگوں یا سیاسی و مذہبی جماعتوں کا لاتعلق رہنا حیران کن اور افسوسناک ضرور ہے تاہم دھرنے کے شرکاکو چاہئے کہ وہ ھرنے میںشرکت نہ کرنے والوں سے گلہ نہ کریں البتہ انہیں قائل کرنے کی کوشش ضرور کی جائے کہ بطور ذمہ دار سیاسی جماعتوں کے ان کا قول اور فعل تاریخ کا حصہ بن رہا ہے ۔ انہیں چاہئے کہ و ہ اس تاریخی دھرنے کا حصہ بنیں اور اتحاد واتفاق کے اس ماحول کو آگے بڑھائیں تاکہ مسائل کا حل نکالا جاسکے اور ایک اچھا تاثر بھی دیا جاسکے کہ عوام کے اہم مسائل پر تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں ایک پیج پر ہیں ۔
