چاغی  ، ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافہ ، حکومتی ایس او پیزپر عملدرآمد نہ ہو سکا

چاغی ، ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافہ ، حکومتی ایس او پیزپر عملدرآمد نہ ہو سکا

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

چاغی ( نامہ نگار ) چاغی چونکہ کرونا وائرس کے سبب2 سے اڑھائی مہینے کوچز منی بسوں کوسٹر گاڑیوں اور لوکل بسز کےعلاوہ سواری لے جانے والے دیگر گاڑیوں کی نقل وحمل پر پابندی عائد کی گئی تھی تاکہ کرونا وائرس کی روک تھام کو یقینی بنایا جاسکے۔جب چند دن قبل واپس سواری لانے اور لے جانے والے گاڑیوں کو انکے متعلقہ روٹس پر چلانے کی اجازت مل تو گئی لیکن محکمہ صحت بلوچستان کی جانب سے جاری کی گئی آیسوپیز میں شامل شرائط کے تحت کہ یہ تمام ٹرانسپورٹرز آیسوپیز پر سختی سے عملدرآمد کرنے کے بعد اپنی گاڑیوں کو چلا سکیں گے لیکن گاڑیاں تو اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ چل رہی ہیں لیکن حکومت کی جانب سے جاری آیسوپیز کے تحت نہیں بلکہ بلکل جیسے پہلے چل رہی تھیں۔بلکل اسی طرح چل رہی ہیں۔اگر چاغی ٹو کوئٹہ کوچز کا کرایہ پہلے 500 روپے تھا تو اب 900 روپے وصول کررہے ہیں اگر چاغی ٹو دالبندین منی بسز کا کرایہ پہلے 100روپے تھا اب 2سو روپے وصول کر رہے ہیں۔ اسکے علاوہ چاغی ٹونوشکی کرایہ قبل ازیں 300 رروپے تھا۔اب 500 روپے وصول کررہے ہیں اگر دالبندین ٹو کوئٹہ 5 سو روپے تھا اب ہزار سے 1200 روپے تک لے رہے ہیں جوکہ سراسر ظلم کے مترادف ہے ٹرانسپورٹرز آیسوپیز کے تحت بڑھنے والے کرایہ کے مستحق اس وقت ہوں گے جب وہ محکمہ ہیلتھ کی جانب سے وضح کی گئی آیسوپیز پر مکمل عملدرآمد کرتے ہوئے کوچز کے 46 یا 42 نشستوں میں سے 23 یا21 نشستوں پر صرف ایک ،ایک سواری بٹھائیں ۔لیکن یہ اب بھی گاڑی کے تمام نشستوں پر پہلے کی طرح سواریوں کو بٹھاتے ہیں منی بسز کے اگر 18 نشستیں ہیں تو آیسوپیز کے تحت صرف نو سواری بٹھانے کی اجازت ہے۔لیکن یہ ڈنڈا سیٹ پر بھی سواری بٹھاتے ہیں اور یوں یہ تمام 22 نشستوں پر سواری بٹھا کر لے جاتے ہیں لیکن کرایہ آیسو پیز کے تحت والا لیتےہیں۔دوسری طرف گاڑیوں میں سواریوں کو نہ ماسک فراہم کیئے جاتے ہیں اور نہ سینیٹائزرز جوکہ ظلم کی انتہاء ہے انتظامیہ کی عدم توجہی کا یہ عالم ہے کہ ٹرانسپورٹرز کیطرف سے آئسو پیز کی مکمل پائمالی سے کرونا وائرس کے پھیلنے کے خطرات بڑھ گئے ہیں اور انتظامیہ کی جانب سے آئسوپیز پر سختی سے عملدرآمد نہ کروانے کی وجہ سے یہ لوگ اپنی من مانیاں کر رہے ہیں ضلعی انتظامیہ کو چاہیئے کہ وہ ان کو پہلے والے کرایہ پر چلنے کا پابند بنائے یا بصورت دیگر آئسو پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنائے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!