اسلام آباد:کابینہ ڈویژن نے وزیر اعظم کے معاونین خصوصی اور مشیروں کے اثاثوں کی تفصیلات بھی جاری کردیںجس کے مطابقمعاون خصوصی برائے پانی وی بجلی، پیٹرولیم و قدرتی ذرائع برائے بلوچستان یار محمد رند کے اثاثوں کی مالیت 81 کروڑ 24 لاکھ روپے ہے۔یار محمد رند 640 تولہ سونے کے علاوہ سندھ، بلوچستان اور دیگر مقامات پر زرعی اراضی کے مالک ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے پاس وراثتی پلاٹس، مکانات اور دیگر جائیدادیں بھی موجود ہیں۔ یار محمد رند دبئی میں اپارٹمنٹ کے بھی مالک ہیں۔ معاون خصوصی پٹرولیم ندیم بابر کے اثاثوں کی مالیت 2 ارب 75 کروڑ 28 لاکھ روپے ہے۔ ان کے دیے گئے ریکارڈ کے مطابق، ان کی پاکستان اور امریکہ میں جائیداد موجود ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر جو جائیداد کی قیمت انہوں نے لکھی ہے، اگر اس قیمت پر ہو تو کوئی بھی سرمایہ رکھنے والا شخص اسے فوری طور پر خریدنا چاہے گا۔ ندیم بابر کے مطابق، لاہور ماڈال ٹاو¿ن میں چار کنال کا گھر ایک کروڑ 75 لاکھ روپے؛ مری میں دو کنال کا گھر دس لاکھ روپے؛ رائیونڈ روڈ لاہور پر 24 کنال زمین ایک کروڑ روپے؛ رائیونڈ روڈ پر ہی ا?ٹھ کنال زمین 35 لاکھ؛ ماڈل ٹاو¿ن میں تین کنال کا گھر تین کروڑ میں؛ بیٹے اور بیٹی کے نام 50,50 لاکھ کے ڈی ایچ میں پلاٹس اور امریکہ میں 3 کروڑ 11 لاکھ روپے کا ایک گھر بھی ہے۔ ندیم بابر کے تیس کے قریب کمپنیوں میں مختلف مالیت کی حصہ داریاں بھی ہیں معاون خصوصی برائے احتساب اور وزیر مملکت داخلہ شہزاد اکبر کے اثاثوں کی مالیت 7 کروڑ 23 لاکھ سے زائد ہے۔ ان کے پاس گوجر خان میں وراثتی گھر اور زمینوں میں حصہ ہے اور اسلام آباد میں ایک پلاٹ ہے جبکہ گاڑی اور دیگر رقوم بھی شامل ہیں۔ معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان تانیہ ایدروس امریکا، برطانیہ، سنگاپور میں 45 کروڑ 26 لاکھ روپے مالیت کے مکانات کی مالک ہیں، جبکہ انہوں نے بیرونِ ملک میں ایک کروڑ 25 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی۔تانیہ ایدروس نے 95 ہزار 789 ڈالر پاکستان منتقل کیے اور گاڑی خریدنے سمیت دیگر اخراجات کے لیے رقم بھی منگوائی۔انہوں نے 82 لاکھ روپے مالیت کی گاڑی خریدی، جبکہ ا±ن کے پاس 50 تولہ سونے موجود ہے۔ تانیہ ایدروس پاکستان میں کسی بھی غیر منقولہ جائیداد کی مالک نہیں ہیں۔معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات عاصم سلیم باجوہ کے اثاثوں کی مالیت 16 کروڑ 10 لاکھ سے زائد ہے۔ ان کے پاس اسلام ا?باد، لاہور میں مختلف مالیت کے پلاٹس اور گھروں کے علاوہ رحیم یار خان اور بہاولپور میں زرعی اراضی بھی ہے۔مشیر خزانہ عبد الحفیظ نے 13 کروڑ 50 لاکھ کا بنک بیلنس ظاہر کیا ہے۔ ان کے پاس 50 لاکھ مالیت کی گاڑی اور 20 لاکھ کے زیورات ہیں۔ حفیظ شیخ کے مطابق دبئی میں اہلیہ کے نام پر 13 کروڑ کا گھر ہے۔ مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کے پاس 2 کروڑ کی زرعی اراضی بھی ہے۔ مشیر تجارت عبدالرزاق داو¿د ایک ارب 35 کروڑ سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں۔ ان کے پاس ساڑھے 3 کروڑ کی زرعی اراضی ہے جب کہ انہوں نے شئیرز کی مد میں 52 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ عبدالرزاق داو¿د نے 27 کروڑ جبکہ انکی اہلیہ نے 13 کروڑ کی سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے۔ انہوں نے 2 کروڑ 93 لاکھ کے سیونگ سرٹیفکیٹ خرید رکھے ہیں اور شئیرز کی مد میں 5 کروڑ کی سرمایہ کاری بھی ظاہر کی ہے۔ عبدالرزاق داو¿د کے 4 کروڑ 15 لاکھ روپے جبکہ اہلیہ کے نام پر ساڑھے 7 کروڑ روپے کی جائیداد ظاہر کی ہے۔ ان کی اہلیہ 40 کروڑ روپے سے زائد اثاثوں اور 52 لاکھ مالیت کے 100 تولے سونے کی بھی مالک ہیں۔امریکی گرین کارڈ ہولڈ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل 11 کروڑ 85 لاکھ سےزائد اثاثوں کے مالک ہیں۔ شہباز گل کے پاس اسلام آباد گلبرگ گرین میں فارم ہاو¿س اور رہائشی پلاٹ ہے، جبکہ امریکہ میں مارگیج پر ایک گھر بھی ہے۔ اہلیہ کے زیوارت اور گاڑی کے بھی مالک ہیں، شہباز گِل کے ذمے 2 کروڑ 42 لاکھ کے واجبات بھی ہیں۔مشیر موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے اہلیہ کے نام 50 لاکھ کی سرمایہ کاری شیئرز کی مد میں کر رکھی ہے۔ انہوں نے ایک کروڑ 47 لاکھ روپے کا بینک بیلنس بھی اثاثہ جات میں ظاہر کیا ہے۔ ان کی اہلیہ کے نام پر 10 لاکھ 75 ہزار روپے کی جائیداد بھی ظاہر کی گئی ہے، جبکہ وہ وراثتی طور پر حاصل کی گئی 15 جائیدادوں کے بھی مالک ہیں ملک امین اسلم کی اہلیہ کے نام پر 92 لاکھ روپے کی 3 گاڑیاں ہیں۔ ملک امین اسلم ایک لاکھ کے زرعی آلات، ڈیڑھ لاکھ کے فرنیچر کے بھی مالک ہیں۔کینیڈین اور پاکستانی شہری ندیم افضل چن کےاثاثوں کی مالیت 3 کروڑ 80 لاکھ سے زائد ہے۔ ندیم افضل کے پاس سرگودھا میں وراثتی زرعی زمین ہے جبکہ لاہور، اسلام اباد اور ملکوال میں پلاٹس بھی موجود ہیں۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی زلفی بخاری ایک امیر شخصیت ہیں اور ان کے بیرون ملک اکاونٹس میں 17 لاکھ پاونڈ سے زائد کی رقم موجود ہے۔ وہ برطانیہ میں پونے چھ لاکھ پاونڈ کی چار گاڑیوں کے مالک ہیں۔زلفی بخاری اور انکی اہلیہ کے پاس ساڑھے چھ لاکھ پاونڈ کے زیورات ہیں۔ 15لاکھ پاونڈ کی ایک اور سرمایہ کاری بھی زلفی بخاری کے اثاثوں میں شامل ہے۔انہوں نے بیرون ملک دس لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ زلفی بخاری کے لندن فلیٹ کی مالیت 48 لاکھ 50ہزار پاونڈ ہے جب کہ کے پاکستانی اکاونٹ میں 23 لاکھ 50 ہزار روپے موجود ہیں۔ زلفی بخاری کی کوئی جائیداد پاکستان میں نہیں۔مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان وراثتی طور پر حاصل کی گئی ساڑھے 16 کروڑ روپے کی جائیداد کے مالک ہیں۔ بابر اعوان نے سپین میں ایک کروڑ روپے کی جائیداد بھی ظاہر کی ہے۔پارلیمانی امور کے مشیر 20 لاکھ روپے کے زیورات اور لاکھ روپے کے فرنیچر کے بھی مالک ہیں اور ان کے پاس ایک کروڑ 68 لاکھ روپے مالیت کی 6 گاڑیاں ہیں۔ مشیر پارلیمانی امور نے کاروبار میں 47 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ بابر اعوان نے 5 کروڑ سے زائد نقد رقم جبکہ 2 کروڑ سے زائد رقم بنک اکاونٹس میں ظاہر کی ہے۔ ان کے پاس 18 لاکھ روپے کے زرعی آلات ہیں جبکہ تین لاکھ روپے کی کلب ممبر شپ بھی حاصل کر رکھی ہے۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے توانائی کے شہزاد سید قاسم کے امریکا میں بینک اکاونٹس میں 21 لاکھ ڈالر کی اور دبئی کے بینک اکاونٹس میں 18 لاکھ درہم کی رقم موجود ہے۔شہزاد سید قاسم کے پاکستانی بینک اکاونٹس میں چار کروڑ 63 لاکھ روپے رکھے ہوئے ہیں، جب کہ ان کے پاس 97 لاکھ روپے مالیت کے چار پلاٹ ہیں اور دبئی میں ان کے تین گھروں کی مالیت دو کروڑ درہم سے زائد ہے۔پاکستان میں انہوں نے 12 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ ان کی امریکا میں پراپرٹی کی قیمت 8 لاکھ 65 ہزار ڈالر ہے۔ دبئی میں ان کے پاس موجود دو گاڑیوں کی مالیت 3 لاکھ 55 ہزار درہم ہے جب کہ وہ 45 ہزار ڈالر کی بھی ایک گاڑی کے مالک ہیں۔ معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کے اثاثوں کی مالیت 6 کروڑ 3 لاکھ روپے ہے معاون خصوصی کے پاس 2 کروڑ روپے مالیت کا گھر اور 3 کروڑ کے پلاٹس بھی ہیں، اہلیہ کے پاس 20 لاکھ روپے مالیت کے زیورات بھی ہیں۔مشیر برائےامور نوجواناں عثمان ڈار 6 کروڑ 18 لاکھ سے زائد مالیت کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ عثمان ڈار نے سیالکوٹ میں زرعی اراضی اور کارروبار کی مالیت ظاہر نہیں کی۔معاون خصوصی اور احساس پروگرام کی چئیرپرسن ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے اکاو¿نٹس میں ایک کروڑ 48 لاکھ روپے ہیں جب کہ وہ پانچ لاکھ کے زیورات کی بھی مالک ہیں۔ ان پاس موجود ہنڈا سوک کار شوہر کے نام پر ہے۔معاون خصوصی اسٹیبشلمنٹ شہزاد ارباب جن کا عہدہ وفاقی کے وزیر برابر ہے، ان کے اثاثوں کی مالیت 12 کروڑ 73 لاکھ روپے سے زائد ہے۔ شہزاد ارباب دس کروڑ سے زائد مالیت کے پلاٹس اور گھروں کے مالک ہیں۔معاون خصوصی برائے سی ڈی اے امور، علی نواز اعوان 13 کروڑ 48 لاکھ روپے مالیت کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ ان کی اہلیہ کے پاس 75 تولے سونا موجود ہیں۔ ان کے پاس اسلام آباد میں فلیٹ، رہائشی پلاٹ اور زرعی زمین بھی موجود ہے۔وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر عشرت حسین مجموعی طور پر 29 کروڑ 42 لاکھ 22 ہزار کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ وہ امریکا میں تین جائیدادوں کے مالک ہیں۔پاکستان میں قانون کے مطابق، تمام ارکان قومی اسمبلی و سینیٹ کو اپنے اثاثے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں ظاہر کرنا ضروری ہیں اور اگر کوئی رکن ایسا کرنے میں ناکام رہے تو اس کی رکنیت معطل کر دی جاتی ہے۔ لیکن، پاکستان میں پہلی بار معاونین خصوصی اور مشیران کے اثاثوں اور شہریت کی تفصیل بھی جاری کی گئی ہے۔معاونین خصوصی کی دوہری شہریت کے معاملہ پر سوشل میڈیا پر بحث و مباحثے کا سلسلہ بھی جاری ہے جس میں ایک طرف حکومتی اقدام کی تعریف کی جا رہی ہے، وہیں زلفی بخاری اور شہباز گل کی غیر ملکی شہریت کو لیکر ماضی میں اقامہ کا قصہ بھی چھیڑا جا رہا ہے۔
